spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بھارت کے زیرتسلط مقبوضہ کشمیرمیں مسلم طلبہ سے تعلیم کاحق بھی چھین لیا گیا

سری نگر:بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں مسلم طلبہ سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ انتہاء پسند بی جے پی نے میرٹ پر سلیکٹ ہونے والے مسلمان طلبہ سے ڈاکٹر بننے کا حق چھین لیا ہے۔ مقامی میڈیکل یونیورسٹی میں مسلمان طلبہ نے ایم بی بی ایس کا انٹری امتحان کامیابی کے ساتھ پاس کیا تھا، تاہم انہیں داخلہ نہیں دیا گیا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق مجموعی طور پر 50 میں سے 42 سیٹوں پر مسلمان طلبہ میرٹ پر سلیکٹ ہوئے تھے، لیکن شرپسند جماعت بی جے پی نے اعتراض کیا کہ “یہ تو ماتا کا پیسہ ہے، مسلمانوں پر نہیں لگ سکتا”۔ دی انڈین ایکسپریس نے بھی ماتا وشنو دیوی یونیورسٹی میں میڈیکل پروگرام کی منسوخی کی حقیقت رپورٹ کی ہے۔ فیکلٹی ممبران اور طلبہ کے مطابق پروگرام جاری رکھنے کے لیے تمام سہولیات موجود تھیں، مگر سہولیات کے فقدان کا بہانہ بنا کر پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔

بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق مسلمان طلبہ سے ڈاکٹر بننے کا حق چھیننے پر ہندوتوا نظریہ کے حامیوں نے خوشی منائی۔ مقبوضہ کشمیر میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کو مذہب کی بنیاد پر تعلیم سے دور رکھنا انتہاء پسندی اور سفاکیت کی مثال ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں