spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں، امریکا کی ایران کو دھمکیوں پر چین کا ردعمل

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں اور امریکا کی ایران میں فوجی کارروائی کی دھمکی پر چین کا اہم بیان سامنے آگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔

چینی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ایران پر مذاکرات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی فوج یہ معاملہ قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں