واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے امکان کے تحت فوج کو ابتدائی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر مزید حوصلہ پا چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے مشیر چاہتے ہیں کہ روس یا چین کے کسی ممکنہ اقدام سے پہلے ہی گرین لینڈ پر قبضہ کر لیا جائے۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے ایسے کسی بھی اقدام سے نیٹو اتحاد کے بکھرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ادھر ڈنمارک اور ناروے کے سفارتکاروں نے گرین لینڈ کے قریب اپنے جہازوں کی موجودگی کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
ایران مذاکرات چاہتا ہے، فوجی آپشن بھی غور کر رہے ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ روز جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران سے متعلق معاملہ فوج دیکھ رہی ہے اور ملک میں بڑھتی بے امنی پر متعدد آپشنز زیرِ غور ہیں، جن میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں احتجاجی صورتحال پر ہر گھنٹے بریفنگ دی جا رہی ہے اور تہران ہماری ریڈ لائن عبور کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک اس کام میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی بہترین ہے۔ ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کو ڈیل کر لینی چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیار ے میں گفتگو میں کہاکہ ایرانی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
امریکی ٹی وی کے مطابق ایران میں مظاہروں کے بعد صدر کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی جس میں ایران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کیا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر آپریشنز اور نئی پابندیاں بھی زیر غور ہیں۔
دوسری جانب امریکی عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران سے متعلق آپشنز پر غور کے لیے سینیئر مشیروں سے منگل کو ملاقات کریں گے۔
ایران نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہے اور ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتے سے جاری مظاہروں میں 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔


