spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

جولائی تا دسمبر 2025: تنخواہ دار طبقے نےکتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟

جولائی تا دسمبر 2025 میں تنخواہ داروں کی انکم ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر تنخواہ داروں نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، انہوں نے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد ادا کیا۔

تنخواہ دار کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا، تنخواہ دارطبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دارطبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔

ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے، صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا، پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دوتہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، یہ 39 ارب روپے رہی، جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں