spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ملک میں ہر دوسری خاتون انیمیا کا شکار، علامات اور علاج کیا ہے؟

پاکستان میں ایک خاموش بحران جنم لے چکا ہے۔ تحقیق کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون انیمیا کا شکار ہے۔

 انیمیا نے پاکستان کی صحت، ترقی اور مستقبل کو جکڑ لیا مسئلہ خاموش مگر اثرات آئندہ نسلوں تک جانے کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں 15 سے 49 برس کی 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ ہر سال 9 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین انیمیا میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔

تحقیق کےمطابق خواتین میں آئرن کی کمی عام ہوچکی ہے، تھکاوٹ، سانس پھولنا، کمزوری اور چکر آنا معمول کی بات بن کر رہ گئی ہے۔ انیمیا حمل کے دوران پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان میں فی عورت بچے پیدا کرنے کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے، حمل کے دوران کم وقفہ اور ناکافی خوراک عورت کے جسم کے ذخائر ختم کردیتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے جب گھر میں افراد بڑھتے ہیں تو خوراک کم پڑجاتی ہے صحت کی سہولتیں محدودہوجاتی ہیں۔ ماں سب کو کھلاتی ہے مگرخود پیچھے رہ جاتی ہے، آبادی کا یہی دباؤ انیمیا کو جنم دیتا ہے۔

آبادی کا یہ دباؤ صرف ماؤں تک محدود نہیں، پاکستان بچوں میں انیمیا کے لحاظ سےجنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ملک میں ہر سال 28 لاکھ بچوں میں خون کی کمی کی تشخیص ہورہی ہے۔ انیمیا زدہ ماؤں سے پیدا ہونے والے بچے کم وزن کا شکار ہوتے ہیں ۔ یہ بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ بیماریوں کا شکار زیادہ بنتے ہیں۔

معالجین کہتے ہیں اس نہ ختم ہونیوالے چکر کی روک تھام کیلئے آئرن سپلیمنٹس کے ساتھ بہتر خوراک کی آگاہی ضروری ہے۔ مگر سب سے اہم فیملی پلاننگ کی سہولتوں کو عام کرنا ہوگا۔

انیمیا محض صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ آبادی، غربت اور عدم منصوبہ بندی سے جڑا سماجی چیلنج ہے۔ ماہرین کہتے ہیں جب آبادی کا دباؤ کم ہوگا تو ہرعورت کو مناسب خوراک اور صحت کی سہولیات دستیاب ہوسکیں گی، جس سے مضبوط ماں، صحت مند بچہ اور طاقتور پاکستان ممکن ہوگا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں