spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

تمام وائرس صحت کے نقصان دہ نہیں، کچھ فائدہ مند بھی ہوسکتےہیں، تحقیق

سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ تمام وائرس انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ کچھ فائدہ مند بھی ہوسکتے ہیں۔

طبی جریدے مائیکروبائل بائیوٹیکنالوجی میں آسٹریلیا کی فائنڈرز یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیک رابنسن کی سبراہی میں سائنس دانوں کے شائع تحقیقی پرچے میں کہا گیا ہے کہ تمام بیکٹیریا یا وائرس نقصان دہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ کچھ ہماری صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں جیسا کہ تمام مائیکروبس ہمیں بیمار نہیں کرتے اور کچھ ہمیں صحت مند رکھنے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر جیک رابنسن نے لکھا کہ نئے شواہد بتاتے ہیں کہ مختلف ماحولیاتی مائیکرو بایومز اور قدرتی حیاتی کیمیائی مصنوعات کا سامنا کرنے سے بھی صحت کی بہتری میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنوع کو کسی چیز کے ختم کرنے کے قابل سمجھنے کے بجائے جدید طریقے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ متنوع ماحولیاتی نظام صحت بخش ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت بخش مائیکروبز صحت کو سہارا دیتے ہیں کیونکہ یہ مدافعتی نظام کی ترتیب، میٹابولزم، بیماریوں کی روک تھام، دباؤ میں کمی اور ماحولیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

جیک رابنسن نے وضاحت کی کہ تقریباً ایک صدی تک ہوا میں موجود مائیکروبز اور کیمیائی مرکبات کو بنیادی طور پر خطرات کے طور پر دیکھا گیا اورانفیکشن، بیماری اور آلودگی کا سبب قرار دیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ مگر یہ نئی تحقیق اس غیر مرئی حیاتیاتی تنوع کو سامنے لاتی ہے جو انسانی اور خلائی صحت کے لیے فعال طور پر معاون کا کردار کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ مائیکروبز جلد اور تولیدی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی ہیں جن میں بہتر غذائی اجزا کا ہضم ہونا، سوزش میں کمی اور خون میں شوگر کا بہتر کنٹرول کرنا شامل ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم کے اندر موجود مائیکروبز کے وسیع مجموعے کو ‘مائیکرو بایوم’ کہا جاتا ہے اسی طرح مائیکروبز کی مختلف اقسام ہیں تاہم عام طور پر پائے جانے والی اقسام میں فنگی، الجی، بیکٹیریا، وائرس، پروٹوزوا، آرکی اور پرایون شامل ہیں۔

ڈاکٹر جیک رابنسن نے کہا کہ صحت مند مائیکروبز بحال کر کے ہم متعدد فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ مائیکروبز انسانی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں، یہ وٹامن پیدا کرتے ہیں، ہاضمے میں مدد دیتے ہیں اور مدافعتی نظام کو تربیت دیتے ہیں تاکہ یہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے خلاف مدافعت کرسکیں۔

ڈاکٹر جیک رابنسن نے کہا کہ جیسا کہ حیاتیاتی تنوع کا نقصان ہماری صحت کے لیے خطرہ ہے، مائیکروبیل اور حیاتی کیمیائی دولت کو بحال کرنا صحت مند مستقبل کی کنجی ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں