spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
20 September, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

معرکہ لاہور اور بھارتی جنرل نرنجن پرساد کی جیپ

سن 1965 میں غرور میں بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں لاہور پر قبضے کا خواب لیے پاکستان پر حملہ کیا تاہم 15 بھارتی انفنٹری ڈویژن کے لاہور پر ناکام حملوں کے بعد بھارتی ہائی کمان شدید ہیجان اور پریشانی کا شکار ہوگئی۔

پاکستان کی فوج نے بھارتی فوج کا دلیری سے سامنا کیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ 15 بھارتی انفنٹری ڈویژن کے لاہور پر ناکام حملوں کے بعد بھارتی ہائی کمان شدید ہیجان اور پریشانی کا شکار تھی۔

زمینی حقائق جاننے کے لیے بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹرز نے لاہور کی سرحد سے میجر جنرل نرنجن پرساد کو بلایا اور ان کی خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ جنرل نرنجن پرساد نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بریگیڈ لاہور پر دستک دے رہی ہے۔ بھارتی ہائی کمان نے جنرل نرنجن پرساد کو فرنٹ لائن پر جا کر حقائق کی تصدیق کا حکم دیا۔

زمینی حقائق سے بے خبر جی او سی 15 بھارتی انفنٹری ڈویژن میجر جنرل نرنجن پرساد فرنٹ لائن کی طرف نکل پڑے۔ واہگہ کے محاز پر بی آر بی نہر پہنچنے پر پاکستانی فوج نے بھارتی جنرل کو آڑے ہاتھوں لیا۔

شدید کنفیوژن کا شکار بزدل بھارتی جنرل اپنی سٹار پلیٹ اور  جھنڈا لگی جیپ چھوڑ کر میدان جنگ سے فرار ہو گیا۔ پاکستانی 18 بلوچ رجمنٹ نے بھارتی جنرل کی جیپ، نقشے اور جنگی پلان قبضے میں لے لیے۔ میجر جنرل نرنجن پرساد کی جیپ فتح کے نشان کے طور پر آج بھی آرمی میوزیم  میں موجود ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں