spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
26 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

چودھری محمد علی ردولوی: صاحب طرز ادیب جو دل پھینک اور دل نواز مشہور تھے

چودھری صاحب نے ادب کی کئی اصناف جیسے افسانہ، انشائیہ، مزاح و خاکہ نگاری اور مکتوب نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی کے اس ادیب اور مضمون نگار کا شخصی خاکہ بیگم انیس قدوائی نے لکھا ہے جو بہت دل چسپ ہے اور لائقِ مطالعہ ہے۔

افسوس کہ چودھری ردولوی کو اردو ادب میں وہ اہمیت نہیں‌ دی گئی یا ان کا اس طرح تذکرہ نہیں ہوا جیسا کہ ان کا حق تھا۔ چودھری محمد علی ردولوی کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات کی اہمیت کے بارے میں خلیق ابراہیم خلیق کی کتاب “منزلیں گرد کی مانند” سے یہ سطور پڑھیے: چودھری محمد علی سے ناواقفیت کا سبب ہمارے ادیبوں اور محققوں کی افسوس ناک سہل نگاری اور غفلت ہے۔ محمد علی ردولوی شروع میں مختلف موضوعات خصوصاً جنسیات پر مضامین اور کتابچے لکھتے رہے، افسانے کی طرف بعد میں آئے۔ نیاز فتح پوری کے علاوہ چونکا دینے والے بلکہ جھنجھوڑ دینے والی تحریریں انہی کی ہوتی تھیں۔ ان کے مضامین اور افسانوں سے روشن خیالی اور آزاد خیالی پھوٹ پڑتی تھی۔ ان کی نہایت دل کش اور مفرد اسالیب نگارش میں سلاستِ زبان کے ساتھ شوخی و بذلہ سنجی کا وفور تھا۔ اپنے ادبی سفر میں وہ رومان کی پگڈنڈیوں سے نکل کر حقیقت کی شاہراہ پر آ گئے اور اس ادب کی زرخیزی کے لیے زمین تیار کی جو سماجی حقیقت نگاری کی مضبوط اور توانا جڑوں سے پھوٹا۔

بیگم انیس قدوائی نے ان کا یہ شخصی خاکہ لکھا تھا، جس سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔

سُرخ و سفید رنگ، خوب گھنی سیاہ بڑی بڑی مونچھیں، ململ کا کرتا، اس پر انگرکھا، بڑی مہری کا لٹھے کا پاجامہ، کبھی شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ۔ ایک شان دار ملازم ساتھ، لڈوؤں کی ہانڈی، شراب کی بوتلیں اور سوڈے کا کیس تھامے ہوئے۔ بڑے بے تکلفانہ انداز میں پھاٹک سے داخل ہوتے۔ ان کی غیر معمولی شوخی و ظرافت اور کھلے ہوئے ہاتھ کی بدولت بچوں، بوڑھوں اور نوکروں سبھی کو ان کی آمد کی خوشی ہوتی۔ بزرگوں تک کو تحفہ تحائف سے نوازتے، نوکروں پر انعام و اکرام کی بارش ہوتی اور بچے مٹھائی کی ہانڈیاں فوراً اچک لیتے۔

میرے والد سے ان کی دوستی کی ابتدا ان دنوں ہوئی تھی جب وہ نئے نئے علی گڑھ سے وکالت پاس کر کے بارہ بنکی آئے تھے اور پریکٹس شروع کی تھی۔ محمد علی چچا کا علاقہ کورٹ تھا اور وہ کوشش کر رہے تھے کہ کسی طرح علاقہ وا گزار ہوجائے۔ برٹش گورنمنٹ ہر راجا یا تعلق دار کے نابالغ لڑکے کو اپنی سرپرستی میں لے کر اس کا علاقہ کورٹ آف واڈس کے سپرد کردیتی تھی۔ اگر بیٹا ناخلف نکلا تو ضبطی کا بہانہ مل جاتا تھا۔ ورنہ اکثر جوان ہوتے ہی لوگ اپنی جائیداد چھڑانے کی کوشش کرتے تھے اور زیادہ تر کامیاب بھی ہوتے تھے۔

محمد علی (ردولوی) چچا بھی کامیاب ہوگئے۔ ریاست چھٹی تو وہ بھی تمام بندھنوں سے رہا ہو گئے۔ کالوِن اسکول (جو اب کالج ہے) راجاؤں اور تعلق داروں کے بچوں کے لیے مخصوص تھا، وہیں تعلیم پائی تھی۔ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ایک بڑی بہن تھی جس کی شادی ہوچکی تھی۔ اس لیے گھر میں سارا لاڈ پیار، شان، رنگ رلیاں ان کی تھیں۔ سنتی ہوں، ردولی کی دو حسین ترین بیگمات میں سے ایک ان کی والدہ تھیں۔ حالاں کہ میں نے جب دیکھا ضعیف ہوچکی تھیں اور حلیہ بدل چکا تھا۔

میرے والد (ولایت علی صاحب) کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں میں سب سے زیادہ محبت و خلوص ہمیں ان ہی سے ملا۔ خود کہا کرتے تھے کہ دو آدمیوں نے میرے زندگی تلخ کردی، ایک ولایت، دوسرے بیوی۔ والد کے انتقال کے بعد بھی وہ ہم سے ملنے مسولی آیا کرتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی ردولی بھی پہنچتے تھے۔

پھر جب لکھنؤ میں ہمارا قیام ہوا تو اکثر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہزاروں قصّے ان کے پاس تھے، اور سننے والوں کا کثیر مجمع۔ سارے لڑکے لڑکیاں ان کو گھیر لیتے اور اس وقت کوئی دیکھتا ان کی ‘گل افشانی گفتار’۔ لکھنوی اور قصباتی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ فارسی اور انگریزی میں بھی برق تھے۔

کپڑے، زیورات، تمیز، تہذیب اور معاشرتی رکھ رکھاؤ ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے ‘صلاح کار’ لکھی ہے تو ہم لوگ خوب ہنستے تھے کہ خدا کی شان! نوجوانوں کے صلاح کار محمد علی چچا بن گئے، جن کے دل پھینک اور دل نواز ہونے کے چرچے سارے ضلع میں پھیلے ہوئے تھے۔

انگریزی تہذیب سے مرعوب تھے اور اپنی تہذیب کے عاشق۔ اسلامی اور ہندوستانی کلچر نے ان کا دل موہ لیا تھا۔ خاص طور سے مسلمان عورتوں کو وہ چاہتے تھے کہ اس راہ سے قدم نہ ہٹائیں۔ ویسے تعلیم نسواں کے ان دنوں بہت بڑے چمپین تھے۔ مولانا کرامت حسین نے اسکول کھولا تو پہلی لڑکیاں محمد علی چچا کی داخل ہوئیں۔ میرے والد کو شاید وہ راضی نہ کرسکے اس لیے میری حسرت پوری نہ ہوسکی۔

دو ہی سال کے اندر ماں نے آفت مچا دی اور دونوں بڑی لڑکیاں واپس بلائی گئیں۔ تب ان کی تعلیم کے لیے ایک حسین نوجوان انگریزی لیڈی کا تقرر ہوا، جو انھیں لکھنا، پڑھنا اور بولنا سکھاتی تھی۔ لڑکیاں تو برائے نام تعلیم حاصل کرسکیں مگر چچا کے تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ چچی کو اندیشہ پیدا ہوگیا اور والدہ تو شمشیر برہنہ ہوگئیں۔ ناچار ٹیچر صاحبہ کو رخصت کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے اور بچّی کے گزارے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ آخر کار وکلاء نے درمیان میں پڑ کر خطیر رقم ماں بچّی کی کفالت کے لیے دے کر چھٹکارا دلوا دیا۔

بیوی بڑی خدا ترس، مرنجاں مرنج اور مذہبی تھیں۔ حج کو جانے لگیں تو چچا بمبئی تک چھوڑنے گئے۔ جدائی کے وقت بیوی کے آنسو نکل پڑے۔ پھر کیا تھا۔ دوڑ دھوپ کر کے جہاز پر جگہ حاصل کی اور خود بھی حج کو روانہ ہوگئے۔ یہ خبر سُن کر سب حیران رہ گئے۔ واپس آئے تو ہم نے کہا: چچا آپ اور حج۔ یہ معجزہ کیسے ہوگیا۔ کہنے لگے یہ بیوی تھی جو مجھے اس دربار میں لے گئی مگر مدینے پہنچ کر بہت ہی دل خوش ہوا۔ بے حد لطف آیا۔ حج سے آنے کے بعد نماز بھی پڑھنے لگے۔

۱۹۲۱ء سے ۱۹۳۰ء تک کانگریس سے بھی بہت دل چسپی رہی۔ جواہر لال جی سے دوستانہ تعلقات رہے۔ ایک پہیے دار چرخا بھی ایجاد کیا تھا۔ مجھے بھی تحفہ دیا تھا اور اس کا نام ‘‘چمرو چرخا’’ رکھا تھا۔ چمرو ان کے نام کا جزو تھا جسے فخریہ استعمال کرتے تھے۔ ان کی ماں کے بچّے نہیں جیتے تھے۔ ایک کثیر الاولاد چمار کے ہاتھ انہیں ٹکے میں بیچ دیا تھا۔ اس لیے ‘چمرو’ ان کا تخلص بن کر رہ گیا تھا۔ اس چمار کے خاندان پر ہمیشہ نظرِ عنایت رہی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں