یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے ظلم، جبر اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی قابض افواج نے طاقت کے زور پر نہتے کشمیریوں کی زندگیوں کو خوف، قید اور اذیت کے سائے میں دھکیل رکھا ہے، جہاں گھروں پر چھاپے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اجتماعی گرفتاریاں معمول بن چکی ہیں۔ یہی مسلسل ظلم اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام آج بھی آزادی، وقار اور انصاف سے محروم ہیں، اور یہی محرومی اس جدوجہد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، اس سنگین انسانی بحران پر خاموش کیوں ہے۔ حالانکہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ایک تسلیم شدہ تنازع ہے، جن میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا واضح وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کہ یہ وعدے آج بھی فائلوں میں دفن ہیں، جبکہ زمین پر ظلم کا تسلسل جاری ہے، جو عالمی ضمیر پر ایک گہرا دھبہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی اس خاموشی کے نتیجے میں کشمیری عوام کو آج تک ان کا بنیادی اور قانونی حق، یعنی حقِ خودارادیت، نہیں دیا گیا، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق ہے۔ یہ حق نہ ملنے کی وجہ سے کشمیری عوام مسلسل سیاسی بے یقینی، سماجی اضطراب اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہیں، اور یہی محرومی انہیں مزید استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔
اسی ظلم کے تسلسل کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے بھارت نے 5 اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کشمیری عوام کو حاصل آئینی تحفظات، زمین کی ملکیت کے حقوق اور شناخت کی ضمانتیں بھی چھین لی گئیں، جس سے نہ صرف ان کے سیاسی حقوق متاثر ہوئے بلکہ ان کے وجود کو بھی براہِ راست خطرے میں ڈال دیا گیا۔
آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں، میڈیا کی آزادی اور مذہبی رسومات تک پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں کشمیری عوام کو نہ صرف خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی ہر آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت طاقت کے بل پر حقیقت کو بدلنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بیرونی آبادکاروں کو لا کر وہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔ اس منظم ڈیموگرافک تبدیلی کا مقصد کشمیری عوام کو اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا ہے، تاکہ ان کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے اور مستقبل میں ہونے والے کسی ممکنہ استصوابِ رائے میں کشمیریوں کی آواز کو دبایا جا سکے۔
یہ آبادیاتی تبدیلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ کشمیری شناخت، ثقافت اور تاریخ کو مٹانے کی ایک منظم سازش بھی ہے۔ بھارت جان بوجھ کر ایسا ماحول پیدا کر رہا ہے جہاں کشمیری عوام اپنی سرزمین، وسائل اور فیصلوں پر اختیار کھو بیٹھیں، تاکہ ان کے حقِ خودارادیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
ان تمام حالات کے باوجود پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور کشمیریوں کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں بلکہ ایمان، عقیدے، اخوت اور مشترکہ جدوجہد کا رشتہ ہے، جو وقت اور حالات کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
اسی جدوجہد کی ایک زندہ علامت حریت رہنما یاسین ملک ہیں، جو اس وقت بھارتی جیل میں قید ہیں اور شدید جسمانی و ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی قید دراصل کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی ایک کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق کی آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے اقدامات جدوجہد کو مزید طاقت بخشتے ہیں۔
آخر میں یومِ یکجہتی کشمیر اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان مظلوم کشمیری عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق دلوانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ یہ دن عالمی برادری کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑے، انصاف کا ساتھ دے اور کشمیری عوام کو آزادی، خودمختاری اور وقار کے ساتھ جینے کا حق دلانے کے لیے عملی کردار ادا کرے


