spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
8 July, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

کارگو طیارہ حادثہ: وسیع سمندر اور جون، جولائی کی بپھری لہروں کے باعث سرچ آپریشن بڑا چیلنج بن گیا

بلوچستان اورماڑہ کے قریب سمندر میں شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی بحری ٹیم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لئیے روانہ کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کے ٹو ایئرویز طیارے کی تلاش کے لیے فضائی اور بحری کارروائیاں تیز کردی گئیں، متعدد بحری اور فضائی وسائل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

متعلقہ ادارے لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے مشترکہ آپریشن میں مصروف ہیں، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور مرچنٹ ویسل شریک ہیں، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے دو بحری جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سر انجام دے رہے ہیں، پاک بحریہ کا ہوائی جہاز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے، وسیع سمندری علاقے  اور جون، جولائی میں بپھری  لہروں کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ایک بڑا چیلنج ہے۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا ائیر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئیے صبح ٹیم کے ساتھ روانہ کردیا گیا، ایدھی کا ایئر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب کے ٹو ایئرویز انتظامیہ نے اپنے جاری بیان  میں کہا کہ کے ٹو ایئر کارگو بوئنگ طیارہ شارجہ سے کراچی ارہا تھا، طیارے کا گزشتہ رات 9:21 بجے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، بوئنگ 737 طیارے کا رجسٹریشن نمبر AP-BOI ہے، طیارے میں پانچ ارکان سوار تھے، پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ افسر فیصل محمود شامل تھے۔

اعلامیہ کے مطابق لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجنیئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں، متعلقہ اداروں کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، کے ٹو ایئر ویز پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں سے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

شارجہ سے پاکستان کے لئے اڑان بھرنے والے K2 ایئر کے کارگو طیارے کے انجینئر محمدعارف صدیقی پی آئی اے سے ریٹائرڈ انجینئر تھے،  محمد عارف صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ سے کیا تھا، ذرائع نے کہا کہ پی آئی اے سے ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عارف صدیقی کی خدمات کےK2 ایئر نے حاصل کیں تھیں۔

قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ کراچی سے مغرب میں 155 ناٹیکل میل دور خلیج میں لاپتا ہوگیا، جس میں عملے کے 5 ارکان سوار ہیں۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کارگو طیارے کے لاپتا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

پی اے اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کارگو طیارے نے رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیویگیشنل سسٹم میں خرابی رپورٹ کی اور کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔

پی اے اے نے بتایا کہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دیکھا گیا اور طیارے نے اچانک اپنی سمت تبدیل کی، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا کہ لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری فعال کر دیا گیا اور مختلف اداروں کے تعاون سے لاپتا طیارے کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

پی اے اے کے مطابق لاپتا کارگو طیارے میں عملے کے 5 افراد سوار تھے۔

طیارے میں سوار افراد کی تفصیلات

شارجہ سے کراچی آتے وقت لاپتہ ہونے والے طیارے کے عملے میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، ساتھی پائلٹ فیصل جتوئی، انجنیئر محمد حامد، محمد عارف صدیقی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔

قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ طیارے نے دوران پرواز نیویگیشن مسئلے کی اطلاع دی تھی، پائلٹ نے اے ٹی سی سے ہیڈنگ کی درخواست کی، جس پر طیارے کو موجودہ سمت برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طیارہ اچانک دائیں جانب مڑا اور تیزی سے بلندی کھونے لگا، طیارے کی نیچے آنے کی رفتار تقریباً 15 ہزار فٹ فی منٹ ریکارڈ ہوئی اور اے ٹی سی کی متعدد کالز کے باوجود طیارے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مزید بتایا گیا کہ کراچی کے مغرب میں تقریباً 155 ناٹیکل میل دور طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

ذرائع نے بتایا کہ طیارہ پاکستان کے 2 ائیرویز کا تھا، کارگو فلائٹ نمبر کے ٹی اے 1732 نے شارجہ سے اڑان بھری تھی اور کریش کرجانے والا طیارہ بوئنگ 734 تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ بدقسمت طیارہ اے پی بی او آئی رجسٹرڈ تھا۔

لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے اسکائی ونگز ایوی ایشن سے رابطہ کرلیا گیا ہے اور ایدھی ائیراسٹاف کو اوڑماڑہ میں ممکنہ حادثے کے مقام کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سول ہوا بازی کے کراچی ہینگر میں سرویلنس طیارے کی ری فیولنگ کا عمل جاری ہے جبکہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اورماڑہ میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا ہوائی جہاز ڈیفینڈر سرچ اینڈ ریسکیو میں شامل ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سمندر میں فاسٹ رسپانس بوٹس کے علاوہ دیگر بحری اثاثے بھی گراونڈ پر موجود ہیں۔

طیارے کے حوالے سے بتایا گیا کہ لاپتا طیارہ فنی خرابی کے بعد مرمت کے لیے شارجہ گیا تھا اور 5 دن شارجہ میں رہا اور فیری فلائٹ (خالی طیارہ) کرتے ہوئے کراچی واپس آرہا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ شارجہ میں طیارے کی مرمت ناردرن ٹیکنیکس نامی کمپنی نے کی تھی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں