اسلام آباد:
ایران اور امریکا کے درمیان فوری مذاکرات کے امکانات کم ہونے کے ساتھ ہی فی الحال توجہ اسلام آباد سے بھی ہٹ گئی ہے۔ پاکستان اس وقت سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا تھا جب 3 ہفتے قبل امریکا اور ایران نے پہلی بار عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
گزشتہ 10 دنوں کے دوران پاکستان دو بار مذاکرات کے ایک اور دور کی ترتیب دینے کے قریب پہنچا۔ تاہم ایران کی پیشگی شرائط نے دوسرے دور کے انعقاد کو روک دیا۔
تب سے مذاکرات کی جگہ پس پردہ سفارت کاری نے لے لی ہے۔ پاکستان کو پس پردہ سفارت کاری میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
پاکستان ہی کے ذریعے ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی ایک تجویز شیئر کی ۔ یاد رہے ایران مسائل کا مرحلہ وار حل کا نقطہ نظر رکھتا ہے اور جلد بازی میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرنا چاہتا۔
دوسری طرف امریکہ ایک ’’ آل ان ون ڈیل ‘‘ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے ۔امریکی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ تہران جلد ہی پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو منصوبوں کا ایک نظر ثانی شدہ موقف پیش کر سکتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی عمل خواہ سست رفتار سے ہی ہو ابھی رکا نہیں ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی جانب سے خلیجی ممالک کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا گیا تاکہ ممکنہ آپشنز پر غور کیا جا سکے۔
لیکن خلیجی ممالک کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کو اس وقت دھچکا لگا جب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
مبصرین کا خیال ہے اس سے مسابقت بڑھ سکتی اور صارفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن منفی پہلو یہ ہے کہ اس سے منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
دیگر ممالک بھی اوپیک سے نکل سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک پہلو ہے۔ کچھ مبصرین کے مطابق ایران امریکہ جنگ کے بعد خطے میں ایک نیا حفاظتی ڈھانچہ بنے گا۔ یہ تو صرف آغاز ہے۔


