spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، اب شدت سے حملے کیے جائیں گے، تہران کو وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔

امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔

 

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔

امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔

ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں