spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ناسا کا تاریخی مشن، 50 سال بعد انسان دوبارہ گہری خلا میں قدم رکھے گا

خلا کی دنیا میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، جہاں ناسا 50 سال سے زائد عرصے بعد انسانوں کو دوبارہ گہری خلا  میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

آخری بار انسان نے 1972 میں اپالو پروگرام کے تحت زمین کے مدار سے باہر قدم رکھا تھا، اور اب آنے والا آرٹیمس 2 مشن ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہونے جا رہا ہے۔

یہ مشن چار خلا بازوں کو چاند کے گرد لے جا کر دوبارہ زمین پر واپس لائے گا، اور یہ پہلا موقع ہوگا جب نصف صدی بعد انسان لو ارتھ آربٹ سے آگے جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس مشن کا راستہ اتنا طویل ہوگا کہ یہ انسانی تاریخ کے کسی بھی مشن سے زیادہ دوری طے کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 2022 میں آرٹیمس ون کا بغیر انسانوں کے کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، جس نے اس بڑے مشن کے لیے راہ ہموار کی۔ اس دوران اسپیس لانچ سسٹم،  راکٹ کی طاقت اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

اب کینیڈی اسپیس سینٹر سے متوقع لانچ کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کی نظریں خلا کی جانب مرکوز ہیں، جہاں انسان نئی سرحدوں کو عبور کرنے جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ مستقبل میں چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد بھی رکھے گا، جبکہ خلا کی تلاش کے شوقین افراد کے لیے یہ لمحہ کسی خواب سے کم نہیں۔

دنیا بھر کے لوگ اس تاریخی لمحے کے منتظر ہیں، جب انسان ایک بار پھر زمین کی حدود سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں قدم رکھے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں