spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

اٹلی؛ اجازت کے بغیر امریکی فوجی طیاروں کی لینڈنگ کی کوشش، حکومت نے روک دیا

اٹلی نے امریکی فوجی طیاروں کو مشرق وسطیٰ سے منسلک کارروائیوں کے لیے سسلی کا فضائی اڈہ استعمال کرنے سے منع کردیا۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا تعلق نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا سے ہے جو ایک اسٹریٹجک مرکز ہے جو اکثر نیٹو اور امریکی مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی طیاروں بشمول بمباروں کے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے سے پہلے اڈے پر اترنے کی توقع تھی تاہم اٹلی نے اترنے سے منع کردیا۔

 

رپورٹس کے مطابق، درخواست مسترد اس لیے کی گئی کیونکہ اجازت کے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ اٹلی میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے معاہدوں کے تحت، روم سے باضابطہ طور پر مشورہ کیا جانا چاہیے اور اس طرح کی کارروائیوں کو آگے بڑھنے سے پہلے منظوری دینا چاہیے۔

مبینہ طور پر اطالوی حکام سے پیشگی مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے انکار کیا گیا۔ وزارت دفاع نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں