spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

آئی ایم ایف وفد کی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا امکان، ایف بی آر کی کمزور کارکردگی بڑا چیلنج

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا امکان ہے، جس میں ایف بی آر کی کمزور کارکردگی بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گی۔

آئندہ ماہ کے وسط تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان کے دورے پر آنے کا امکان ہے، جہاں وہ بجٹ 2026-27 کی تیاری اور ملک کے اہم معاشی اہداف پر تفصیلی مذاکرات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے لیے سب سے بڑا چیلنج فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کمزور کارکردگی ہوگی، کیونکہ ٹیکس اہداف بار بار پورے نہ ہونے کی وجہ سے اس ادارے سے متعلق تشویش برقرار ہے۔

آئی ایم ایف وفد ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے دباؤ برقرار رکھے گا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکس نظام اور انوائسنگ کے لازمی نفاذ پر بھی زور دیا جائے گا تاکہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے۔

علاوہ ازیں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضہ کم کرنے کی حکمت عملی اور بجلی و گیس کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر مشاورت بھی متوقع ہے۔

آئی ایم ایف وفد کے ساتھ نجکاری پروگرام اور سرکاری اداروں کی اصلاحات کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ اس کے علاوہ گورننس، شفافیت اور کرپشن کے خلاف اقدامات پر بھی توجہ دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ  آئندہ ریویو میں کارکردگی کی بنیاد پر آئی ایم ایف کی جانب سے نئی قسط کے اجرا کا فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں مزید شرائط عائد ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں