spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

حکومت کا اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا اصولی فیصلہ

وفاقی حکومت نے کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ملک میں توانائی کے ممکنہ بحران سے نمنٹنے کیلیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں ایندھن کی دستیابی، درآمدی حکمتِ عملی اور عالمی منڈی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی مستحکم ہے جہاں ڈیزل کے 23 سے 24 دن کے کافی ذخائر موجود ہیں جبکہ پیٹرول کی دستیابی بھی تسلی بخش ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ خام تیل کے تقریباً 11 دن کے لیے ذخائر موجود ہیں اور مزید کھیپ راستے میں ہیں، جن سے اپریل تک ریفائنریوں کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔

 

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپریل کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی منصوبہ بندی فعال انداز میں جاری ہے اور بڑی مقدار میں سپلائی پہلے ہی مختلف تجارتی اور حکومتی معاہدوں کے تحت حاصل کی جا چکی ہے جبکہ ریفائنریوں کو مکمل استعداد کے ساتھ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خام تیل کو زیادہ سے زیادہ ریفائن کر کے ملکی طلب پوری کی جا سکے۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تیل کی خریداری میں دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں تاکہ کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی جا سکے، جبکہ شپنگ، انشورنس اور دیگر لاجسٹک امور میں بھی شفافیت اور تجارتی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔

اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی طلب پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔

اجلاس میں پٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا، جس کے تحت ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے بہتر فیصلے کیے جاسکیں گے۔

اس کے علاوہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے صورتحال کو مستحکم رکھا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں