spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
1 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

ڈگری کالج چلاس میں درسِ قرآن

یہ میرے معمولات کا حصہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ فہمِ قرآن کے لیے وقف کرتا ہوں جس کے لیے مجھے مختلف تفاسیر میں قرآنی آیات و سورتوں کا مطالعہ کے بعد تدبر کرنے کی کوشش کرنا ہوتی ہے، اور اگر اپنا مطالعہ اور حاصل شدہ تدبر، رمضان المبارک میں کہیں درس، محفلِ ختمِ قرآن یا تقریر کی صورت میں بیان کرنے کا موقع مل جائے تو ایسے موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

اس سال (2026) فروری کے مہینے میں رمضان المبارک شروع ہوا تو ہم چلاس ڈگری کالج میں تھے۔ رمضان سے پہلے ہی قرآن کے مطالعے کے سلسلے میں حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے افکار پر مبنی کتاب “قرآنی شعور انقلاب” کا مطالعہ شروع کرچکا تھا۔ اس مطالعے نے دل میں یہ خواہش اور بھی مضبوط کر دی تھی کہ ان افادات اور نکات کو بیان کرنے کا کوئی موقع مل جائے تاکہ قرآن کے فہم کی یہ روشنی دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔
چنانچہ رمضان سے قبل ڈگری کالج چلاس کے پرنسپل پروفیسر عبداللہ خان اور وائس پرنسپل پروفیسر ارشاد احمد شاہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ “رمضان المبارک کے ایام میں کالج میں جملہ طلبہ اور ملازمین کے لیے درسِ قرآن کی ترتیب رکھی جائے۔”
اس کے ساتھ ایک مختصر شیڈول بھی ان کے سامنے پیش کیا کہ معمول کی تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ صبح کالج میں پہلے گھنٹے سے پہلے درسِ قرآن ہوگا اور اس کے بعد طلبہ اپنی کلاسز لیں گے۔ دونوں صاحبان نے بڑی محبت اور خوش دلی سے اس تجویز کو سراہا اور یوں باقاعدہ ایک حکمنامہ جاری کردیا گیا۔

ہمارے کالج میں ہمارے ایک مخلص دوست مولوی محمد بلال صاحب اسلامیات پڑھاتے ہیں، ایم فل اسکالر ہیں۔ ان سے مشاورت کی گئی اور یوں یہ طے پایا کہ درسِ قرآن کی ذمہ داری ہم دونوں تین تین دنوں کی ترتیب سے ادا کریں گے۔ اس طرح ایک خوبصورت تعلیمی و روحانی سلسلہ شروع ہوگیا۔

بہر حال کالج کے طلبہ نے بڑی خوشی اور دلچسپی کے ساتھ درس میں بیٹھنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ کچھ ملازمین بھی اس حلقے میں شامل ہونے لگے۔ صبح کے پرسکون ماحول میں جب قرآن کی آیات کا ذکر ہوتا، ان کے معانی اور پیغام بیان کیے جاتے تو محسوس ہوتا کہ گویا علم کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی فراہم ہورہی ہے۔

میں نے اس سلسلے میں حقوقِ قرآن کے موضوع پر پانچ مفصل لیکچر دیے۔ ان میں ایمان بالقرآن، تلاوت قرآن ، تفسیر و تدبر قرآن ، عمل بالقرآن اور تبلیغ بالقرآن کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا، اس کے بعد سورۃ الفاتحہ پر پانچ لیکچر اور سورۃ الاخلاص پر تین تفصیلی لیکچر پیش کیے۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص کے لیکچرز میں بنیادی تیاری مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کے افادات پر مبنی کتاب “قرآنی شعور انقلاب” سے کی، لیکن اس کے ساتھ ہر آیت کے ذیل میں قرآنِ کریم کی پانچ پانچ متعلقہ آیات اور دو دو احادیث الگ سے ڈائری میں جمع کرکے باقاعدہ نوٹس تیار کیے یعنی تفسیر قرآن بالقرآن و تفسیر قرآن بالحديث اور ساتھ ہی اسلام 360 سے مختلف تفاسیر بالخصوص حضرت پیرکرم علی شاہ کی ضیاء القرآن، مولانا امین احسن اصلاحی کی تدبر قرآن، مولانا مودودی کی تفہیم القرآن اور مفتی تقی عثمانی کی آسان ترجمہ قرآن سے خوب استفادہ کیا۔ اس تیاری کا فائدہ صرف طلبہ کو ہی نہیں بلکہ مجھے خود بھی بے حد محسوس ہوا۔ جب انسان قرآن کی آیات کو مختلف زاویوں سے دیکھتا اور ان پر تدبر کرتا ہے تو اس کے دل میں قرآن کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

سورۃ الفاتحہ درس کے ذیل میں ان موضوعات کو خصوصی طور پر بیان کیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں