spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
6 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

آئی ایم ایف کی تجویز کے بعد روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر کو حقیقی مؤثر شرح تبادلہ کے مطابق ایڈجسٹ کرے، جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مشاورت کے دوران ادارے نے کہا ہے کہ شرح تبادلہ کو معاشی بنیادی عوامل کے مطابق لانا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستانی روپے کی قدر تقریباً  280 روپے فی ڈالرکے مقابلے میں کم ہو کر 290 سے 300 روپے فی ڈالر تک جا سکتی ہے۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہا ہے اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ پالیسی مذاکرات جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق کمزور کرنسی سے برآمدات کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں نسبتاً سستی ہو جاتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ درآمدی اشیا خصوصاً ایندھن اور خام مال مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات پر کام کر رہا ہے، جن میں محصولات میں اضافہ اور ایکسچینج ریٹ کو لچکدار رکھنا شامل ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں