صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ان پیغامات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے سے جاری بیان کے اس موقع پر اسکالر اور چارہار انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چینگ شی ژونگ نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر تنازعہ کی تاریخی، سیاسی، سلامتی اور انسانی پہلوئوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے اس دیرینہ تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکار کرتے ہوئے بھارت اُن چند ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے جو بظاہر جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہیں مگر بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی توجہ اپنی غیر قانونی قبضے اور قانون کی حکمرانی سے انحراف سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا جلد حل خطے اور اس سے باہر پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اس موقع پر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور خطے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب کے دوران ایک تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔



