spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
27 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے کا یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر “جموں و کشمیر: ماضی اور حال” کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا انعقاد

بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے کا یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر “جموں و کشمیر: ماضی اور حال” کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا انعقاد

بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر “جموں و کشمیر: ماضی اور حال” کے عنوان سے ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا ۔

صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ان پیغامات میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستان کی مستقل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا گیا، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بیجنگ میں پاکستان کے سفارتخانے سے جاری بیان کے اس موقع پر اسکالر اور چارہار انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چینگ شی ژونگ نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر تنازعہ کی تاریخی، سیاسی، سلامتی اور انسانی پہلوئوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے اس دیرینہ تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے اپنے خطاب میں سمپوزیم میں شرکت پر چینی اسکالرز، ماہرینِ تعلیم، محققین اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر تنازعہ پر چین کے واضح مؤقف پر چینی حکومت سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اس مسئلے کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی جائز خواہشات کے مطابق ہو۔انہوں نے کہا کہ مسئلۂ کشمیر بین الاقوامی قانون، عالمی اصولوں اور اقوامِ متحدہ پر مبنی عالمی نظام کی ساکھ کا معاملہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ممالک سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکار کرتے ہوئے بھارت اُن چند ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے جو بظاہر جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہیں مگر بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی سے جوڑ کر عالمی توجہ اپنی غیر قانونی قبضے اور قانون کی حکمرانی سے انحراف سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا جلد حل خطے اور اس سے باہر پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اس موقع پر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور خطے میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب کے دوران ایک تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں