spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
28 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارت اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی ملکی استحکام کے خلاف ایک منظم بیرونی سازش کی کڑی قرار دی گئی ہے۔

 

شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ بھارت اور دیگر غیر ملکی عناصر کا گٹھ جوڑ اور سہولت کاری شامل ہے۔

 

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور ساز و سامان غیر ملکی ساختہ ہے، جس کی مجموعی مالیت لاکھوں میں ہے۔

ہر دہشت گرد کو تقریباً بیس سے پچیس لاکھ روپے مالیت کے اسلحہ اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا۔

 

برآمد ہونے والے اسلحے میں M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جبکہ دہشت گرد بیرونی ساختہ کمبٹ گیرز، بندولئرز، بلٹ پروف جیکٹس اور وائرلیس سیٹس سے بھی لیس پائے گئے۔

 

مزید برآں، ہلاک دہشت گردوں سے نشہ آور ادویات اور انجیکشن بھی برآمد ہوئے، جو ان کی بے حس کرنے والی صلاحیت میں استعمال کیے جاتے تھے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، احساس محرومی اور لاپتہ افراد کے جھوٹے بیانیے کے پیچھے یہ لاکھوں مالیت کا اسلحہ کون فراہم کر رہا ہے؟ یہ سوال شواہد کی روشنی میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

 

بھارت کے سیکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کی پاکستان کو بلوچستان سے محروم کرنے کی دھمکی، اور اسرائیلی نژاد مورخ ڈاکٹر ہائم زیبنر کی تحقیقات، اس گٹھ جوڑ کو مزید بے نقاب کرتی ہیں کہ اسرائیل بلوچستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گرد ملیشیا کی مدد کر رہا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سازشوں کا حصہ ہیں، جس سے علاقے کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

 

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں