spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
2 May, 2026
معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں مفکرِ پاکستان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مزارِ اقبال پر طلباء و طالبات نے حاضری دی اور پھولوں کی چادھڑ چڑھا کر عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ راحت فتح علی خان نے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ سمیت کلامِ اقبال پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ Discover more Music Industry News Comedy Show Tickets Weather Alert Service گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء نے کلامِ اقبال پیش کر کے محفل کو گرما دیا میمونہ ساجد نے’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘پیش کر کے داد سمیٹی۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم جس میں وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، پرنسپل کنیرڈ کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ارم، پرو ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر اعجاز اللہ چیمہ، ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر بسیرا امبرین، ڈین لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ریحانہ، ڈین گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈاکٹر شہزاد حسین اور وائس چانسلر سپیریئر یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نظام ، پروفیسر ڈاکٹر ندیم جعفر شامل ہیں نے خصوصی شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ خودی اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرتے ہوئے معرکۂ حق کی کامیابی کو اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر قرار دیا۔ شرکاء نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تقریب میں قومی یکجہتی، نظریۂ پاکستان اور حب الوطنی کا بھرپور اظہار کیا اور مقررین نے فکرِ اقبال کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پاکستان کے ابھرتے ٹیلنٹ سمیر منہاس کی کامیابی کا راز کیا؟

پاکستان کے 19 سالہ اوپنر سمیر منہاس نے کم عمری میں ریکارڈ ساز اننگز کھیل کر خود کو نمایاں کر لیا ہے۔

جیسے جیسے سمیر منہاس کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے آرہا ہے، عوام و خواص میں ان کی بیٹنگ تکنیکس کے بارے میں جاننے کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

ایسے سمیر منہاس نے اپنی طاقتور بیٹنگ اسکلز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جس نے بہت لوگوں کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کی بیٹنگ کی بنیاد طاقت نہیں ہے، بلکہ حساب، صبر اور شاندار ٹائمنگ سے کام لے کر وہ اپنی اننگز کو سحر انگیز بناتے ہیں۔

سمیر منہاس نے بتایا کہ کرکٹ کی طرف ان کا سفر ملتان کی گلیوں سے شروع ہوا، جہاں بچپن میں اپنے بڑے بھائی عرفات کے خلاف میچ کھیلتے ہوئے انہوں نے دباؤ میں چھکا لگا کر خود پر اعتماد پیدا کیا۔ وقت کے ساتھ یہی اعتماد ان کی پہچان بن گیا۔

انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف 113 گیندوں پر 172 رنز کی شاندار اننگ نے سمیر منہاس کو قومی سطح پر شہرت دلائی۔

اس اننگز میں ان کے شاٹس طاقت سے نہیں بلکہ نفیس ٹائمنگ سے نکلے، جس نے شائقین اور سابق کھلاڑیوں کو متاثر کیا۔

سمیر کا کہنا ہے کہ وہ ہر گیند پر اٹیک کرنے کے بجائے میچ کی صورتحال کو سمجھ کر کھیلتے ہیں۔

ان کے مطابق چند ڈاٹ بالز یا میڈن اوورز انہیں پریشان نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سیٹ ہونے کے بعد اسٹرائیک ریٹ خود بہتر ہو جاتا ہے۔

کوچز کے مطابق سمیر منہاس کی بیٹنگ میں ٹھہراؤ اور سمجھ بوجھ نمایاں ہے، جو انہیں دیگر نوجوان کھلاڑیوں سے منفرد بناتی ہے۔

وہ خود کو پاور ہٹر نہیں بلکہ ایک ایسا بلے باز سمجھتے ہیں جو گیند کو دیر سے کھیل کر درست جگہ پر بھیجتا ہے۔

انڈر 19 ون ڈے کرکٹ میں شاندار اعداد و شمار کے ساتھ سمیر منہاس اب ورلڈ کپ میں پاکستان کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا خبروں کے دباؤ کے بجائے صرف میدان میں کارکردگی پر توجہ دیتے ہیں۔

نوجوان اوپنر مستقبل میں تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کے خواہشمند ہیں اور خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ کو اپنا خواب قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول اصل امتحان وہیں ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں