spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

خوشخبری! 8 لاکھ پاکستانیوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کا بڑا اعلان

وفاقی حکومت نے سال 2026 میں 8 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جو گزشتہ برس بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے والے تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار افراد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI) کے وفد سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت کی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کوریا اور جاپان کے تعاون سے سافٹ اسکلز ٹریننگ پروگرامز متعارف کرا رہی ہے، جن کا مقصد پاکستانی افرادی قوت کی مہارتوں کو عالمی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ان کی بین الاقوامی مسابقت میں اضافہ کرنا ہے۔

چوہدری سالک حسین نے بیرونِ ملک ملازمت کی خواہشمند خواتین کے لیے ایک اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے کم از کم عمر کی حد 35 سال سے کم کر کے 25 سال کر دی گئی ہے، جس سے خواتین کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق بیرونِ ملک کام کرنے والے ہنرمند پاکستانی نہ صرف ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوریا میں کام کرنے والا ایک پاکستانی ورکر اوسطاً ماہانہ 1,800 ڈالر ترسیلاتِ زر وطن بھیجتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیز کو درپیش مسائل کے حل، ہنرمندی کے فروغ اور بیرونِ ملک محفوظ، منظم اور باوقار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں