spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

صرف ایک سادہ غذائی تبدیلی، عمر رسیدہ افراد کے لیے چربی کم کرنے میں موثر ثابت

ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد اگر اپنی خوراک میں ایک بنیادی مگر سادہ تبدیلی کرلیں تو نہ صرف جسمانی چربی میں واضح کمی آسکتی ہے بلکہ جسم کا قدرتی نظامِ توانائی بھی بہتر ہوسکتا ہے۔

طبی غذائیت سے متعلق ایک معتبر جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فیکٹریوں میں تیار کی جانے والی انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا کم استعمال صحت پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔

ایسی غذائیں عام طور پر گھروں میں تیار نہیں ہوتیں اور ان میں ذائقہ بڑھانے والے اجزاء، رنگ، محفوظ رکھنے والے کیمیکل اور دیگر مصنوعی عناصر شامل ہوتے ہیں۔

پیک شدہ اسنیکس، تیار کھانے اور بعض گوشت کی مصنوعات اس کی عام مثالیں ہیں۔

اس تحقیق کے لیے پینسٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو منتخب کیا گیا جن میں سے کئی افراد زائد وزن یا شوگر اور کولیسٹرول جیسے مسائل کا شکار تھے۔

شرکا کو دو مختلف غذائی منصوبوں پر رکھا گیا جن میں آٹھ آٹھ ہفتوں تک انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال بہت کم رکھا گیا۔

ایک خوراک میں لین گوشت شامل تھا جب کہ دوسری خوراک میں سبزیاں، دودھ اور انڈوں کو شامل کیا گیا۔ دونوں غذاؤں کے درمیان دو ہفتے کا وقفہ دیا گیا جس میں شرکا نے معمول کی خوراک استعمال کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شرکا کو نہ تو کیلوریز کم کرنے کا کہا گیا اور نہ ہی ورزش میں تبدیلی کی ہدایت دی گئی۔ اس کے باوجود جب انہوں نے پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال کم کیا تو قدرتی طور پر کم کھانا شروع کیا، وزن میں کمی آئی اور خاص طور پر پیٹ کی چربی کم ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ جسم میں شوگر کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت بڑھی، کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوئی، سوزش کی علامات میں کمی آئی اور وہ ہارمونز بہتر ہوئے جو بھوک اور توانائی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہ فوائد گوشت والی اور سبزیوں والی دونوں خوراکوں میں یکساں دیکھے گئے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کی خوراک کا نصف سے زیادہ حصہ انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں پر مشتمل ہوتا ہے جو موٹاپے اور دل کی بیماریوں جیسے مسائل سے جڑی ہوئی ہیں۔

عمر رسیدہ افراد کے لیے میٹابولزم کی بہتری نہ صرف صحت بلکہ خودمختاری اور معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں