spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
5 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

3000 سال پرانا زیتون کا درخت، جو کسی عجوبے سے کم نہیں

یونان کے جزیرہ کریٹ کے گاؤں آونو وووِس میں 3000 سال پرانا دنیا کا سب سے قدیم زندہ زیتون کا درخت موجود ہے جس میں آج بھی پھل لگتے ہیں۔

یہ درخت ایک قدیم قدرتی عجوبہ ہے اور ہر سال زیتون پیدا کرتا ہے۔ یہ درخت ٹسوناتی قسم کا مقامی درخت ہے، جسے ایک جنگلی زیتون کے درخت پر تین میٹر کی بلندی پر گرافٹ کیا گیا تھا۔ اس کا بڑا تنا 12.5 میٹر (41 فٹ) محیط اور 4.6 میٹر (15 فٹ) قطر کا ہے، جو ایک پیچیدہ ساخت کی مانند دکھائی دیتا ہے۔

 حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی مجسمے کی طرح دکھائی دینے والا یہ درخت وقت کے ساتھ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔

اس درخت کی عمر کا صحیح تعین ممکن نہیں کیونکہ اس کا درمیانی حصہ کھوکھلا ہو چکا ہے، جو اس کی غیر معمولی خود تجدید کے عمل کا حصہ ہے۔

درخت کا مرکز سڑتا رہتا ہے، جبکہ نئے لکڑی کے حصے اس کے باہر بڑھتے ہیں، اس طرح درخت کی ساخت اور سائز میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے۔

درخت کی سالانہ رنگ کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کی عمر کم از کم 2,000 سال ہے، لیکن کریٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس درخت کی عمر تقریباً 4,000 سال ہو سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ زیتون کے درختوں کی عمر معلوم کرنے کا کوئی واضح سائنسی طریقہ موجود نہیں ہے لہذا اس درخت کی عمر کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم پھر بھی اسے دنیا کا سب سے قدیم زیتون کا درخت سمجھا جاتا ہے۔

یہ درخت ہر سال تقریباً 20,000 سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، اور مغربی کریٹ میں ایک محفوظ قدرتی یادگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں