spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی تیاری کیلئے نئی پالیسی تیار

پاکستان نے موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے نئی ’’موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-30 ‘‘ کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے شیئر کر دیا گیا ہے۔ یہ پالیسی پاکستان میں موبائل اور الیکٹرانک صنعت کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

نئی پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سے آٹھ سالوں میں 50 فیصد موبائل کے پرزہ جات مقامی سطح پر تیار کیے جائیں گے، اس سے نہ صرف ملک کی مقامی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔

نئی پالیسی میں موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز کی برآمدات کے حجم کو 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مقامی سطح پر موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی تیاری کے لیے 50 ہزار ہنر مند ورکرز کی تربیت کی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں  گے۔

پالیسی کے تحت لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس پوائنٹ آف سیل مشینوں کی تیاری کی جائےگی، جس کے لیے 30 فیصد مقامی پرزہ جات بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی قیمتوں میں پانچ فیصد پیداواری لاگت کی بچت کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ اس سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے موبائل صارفین کے لیے الرٹ جاری کر دیا

پالیسی میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کی تیاری بھی شامل ہے۔ ان آلات کے لیے 30 فیصد مقامی پرزہ جات بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے ملک میں ان آلات کی تیاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

مقامی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ سے ملک کو 148 ارب روپے کی لیوی حاصل ہوگی۔

یہ پالیسی پاکستان کی موبائل اور الیکٹرانک صنعت کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے اور اس سے نہ صرف مقامی سطح پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر مسابقتی حیثیت میں بھی بہتری آئے گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں