spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
4 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

بلتستان یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ: چاروں اضلاع میں ٹیکنیکل انکیوبیشن سینٹرز فوری فعال کرنے کا اعلان

اسلام آباد :بلتستان یونیورسٹی سکردو نے خطے کے نوجوانوں اور مقامی آبادی کو خود مختار بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بلتستان کے چاروں اضلاع میں ٹیکنیکل انکیوبیشن سینٹرز کو فوری طور پر فعال کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ اسلام آباد میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے شعبہ اوریک (ORIC) اور بزنس انکیوبیشن سینٹر (BIC) کے ذمہ دادان نے شرکت کی۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی کمیونٹی کو سائنس، فنون اور سوشل سائنسز جیسے شعبوں میں نہ صرف آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق عملی تربیت دے کر روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر اوریک ڈاکٹر منور علی عباس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سینٹرز کے ذریعے مقامی لوگوں کو مختلف ہنرمندی کے کاموں میں مصروف کیا جائے گا، جن میں لائیو اسٹاک (مال مویشی) اور ویٹرنری میڈیسن جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ان مراکز میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کو مدعو کیا جائے گا جو مقامی نوجوانوں کی تربیت سازی کریں گے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر نے ان سینٹرز کو جلد از جلد فعال کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اس مقصد کے لیے اپنا بھرپور تعاون فراہم کرے گی تاکہ دور افتادہ علاقوں کے لوگ بھی جدید تعلیم اور ٹیکنیکی مہارتوں سے مستفید ہو سکیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں