spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

پارلیمنٹ میں بیت الخلا کی کمی، جاپان کی وزیر اعظم سمیت متعدد خواتین ارکان کا احتجاج

جاپان کی وزیرِ اعظم سَنے تاکائیچی اُن تقریباً 60 خواتین اراکینِ پارلیمنٹ میں شامل ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں خواتین کے لیے بیت الخلا کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ قانون ساز ادارے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے مطابق سہولیات بھی میسر ہوں۔

اکتوبر 2024 کے انتخابات میں 465 رکنی ایوانِ زیریں میں ریکارڈ 73 خواتین منتخب ہوئیں، جو اس سے قبل 2009 میں منتخب ہونے والی 54 خواتین کے سابقہ ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔

اپوزیشن جماعت کنسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن یاسوکو کومی یاما کا کہنا ہے کہ اکثر اجلاس سے قبل خواتین کو بیت الخلا کے باہر طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے ایک اور خاتون رکن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے بیت الخلا جانے کی کوشش ہی ترک کر چکی ہیں۔

پارلیمنٹ کے مرکزی ہال کے قریب خواتین کے لیے صرف ایک بیت الخلا موجود ہے، جس میں دو کیوبیکل ہیں، جبکہ پوری عمارت میں مجموعی طور پر خواتین کے لیے 9 بیت الخلا اور 22 کیوبیکل موجود ہیں۔

اس کے مقابلے میں مردوں کے لیے 12 بیت الخلا ہیں، جن میں مجموعی طور پر 67 اسٹالز اور یورینلز ہیں، جیسا کہ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔

یاسوکو کومی یاما کے مطابق موجودہ صورتحال اس لیے بھی غیر آرام دہ ہے کہ خواتین عملہ اور آنے والی خواتین مہمان بھی انہی بیت الخلا کو استعمال کرتی ہیں۔

انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ وہ اپنی آواز بلند کرنا چاہتی ہیں اور اُس دن کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں جب مستقبل میں خواتین پارلیمانی نشستوں کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ حاصل کریں گی۔

جاپان کی پارلیمنٹ کی عمارت 1936 میں تعمیر کی گئی تھی، جو خواتین کو حقِ رائے دہی ملنے (1945) سے تقریباً ایک دہائی پہلے کی بات ہے۔ پارلیمنٹ میں پہلی خواتین کی تقرری 1946 میں ہوئی تھی۔

یہ پارلیمانی عمارت تین منزلہ پھیلا ہوا ڈھانچہ ہے، جس کا مرکزی حصہ نو منزلوں پر مشتمل ہے۔ عمارت 13 ہزار 356 مربع میٹر رقبے پر قائم ہے، جو تقریباً دو فٹبال گراؤنڈز کے برابر بنتا ہے، جبکہ مجموعی فلور ایریا 53 ہزار 464 مربع میٹر ہے۔

کومی یاما نے جاپانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر انتظامیہ واقعی خواتین کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ ہے تو وہ ان کے مطالبے کو سمجھتے ہوئے تعاون کرے گی۔

ایوانِ زیریں کی کمیٹی کے چیئرمین یاسوکازو ہاماڈا نے بھی خواتین کے لیے مزید بیت الخلا بنانے کی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں