این پاک انرجی نے ہنزہ میں ٹرانزیشن فیز کا آغاز کر دیا
گلگت بلتستان کے پاور سیکٹر میں ایک اہم سنگِ میل
ہنزہ:
این پاک انرجی (NPAK Energy) نے آج ہنزہ میں منعقدہ ایک باضابطہ تقریب کے ذریعے اپنے ٹرانزیشن فیز کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس موقع پر حکومتِ گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام، مقامی قیادت، واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ (WPD) اور این پاک انرجی کے ملازمین نے شرکت کی۔
یہ تقریب گلگت بلتستان کے توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں پیش رفت کی علامت ہے اور اب تک خطے میں کی جانے والی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری پر مبنی سب سے بڑے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتی ہے۔
یہ ٹرانزیشن حکومتِ گلگت بلتستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد یوٹیلیٹی گورننس کو مضبوط بنانا، سروس ڈیلیوری کو بہتر کرنا اور مقامی آبادی کے فائدے کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت این پاک انرجی حکومتی اداروں، مقامی کمیونٹیز اور ملازمین کے ساتھ قریبی تعاون سے ایک شفاف، منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنائے گی۔
تقریب میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، سیکریٹری واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
“یہ ٹرانزیشن حکومتِ گلگت بلتستان کے اس اعتماد کا اظہار ہے کہ منظم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے ادارہ جاتی مضبوطی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کو قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ یہ قدم پائیدار ترقی اور بہتر عوامی خدمات کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔”
“واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ نے کئی دہائیوں سے ہنزہ کے عوام کی خدمت کی ہے، اور یہ ٹرانزیشن اسی بنیاد کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ ہم این پاک انرجی کے ساتھ مل کر ہموار منتقلی، ملازمین کے مفادات کے تحفظ اور آپریشنل بہتری کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ بجلی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھی جائے گی۔”
“ہماری فوری توجہ آپریشنل اور تکنیکی نظام کو مضبوط بنانے، اور کمیونٹیز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کھلے اور شفاف انداز میں روابط بڑھانے پر ہے۔ ہم شفافیت، حفاظتی معیارات اور منصفانہ بجلی کی تقسیم کے لیے پُرعزم ہیں، جبکہ طویل المدتی پائیداری اور بہتر سروس کوالٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔”
این پاک انرجی نے ٹرانزیشن فیز کے دوران اپنی ابتدائی ترجیحات کا بھی اعلان کیا جن میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، گورننس اور مالی نظام کی مضبوطی، حفاظتی معیار میں بہتری، اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ قریبی مشاورت شامل ہے تاکہ ان کے خدشات اور توقعات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔


