اسلام آباد میں وفاقی وزرا کی اہم گفتگو میں حکومت نے مہنگائی کے دباؤ میں پسی عوام کیلئے بڑے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ممکن حد تک قیمتوں کو قابو میں رکھا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو ریلیف دینے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، تاہم پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے اور کہیں بھی قلت یا لمبی قطاروں کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے 129 ارب روپے خرچ کیے اور تین ہفتوں تک قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موٹرسائیکل صارفین کیلئے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی جبکہ کسانوں کیلئے 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے بھی خصوصی ریلیف پیکیج دیا گیا ہے، جبکہ میٹرو بس سروس کو مفت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کیلئے فیول سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ سبسڈی صرف رجسٹرڈ گاڑیوں کو ملے گی اور اس کیلئے ایکسائز میں رجسٹریشن لازمی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی، خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان مل کر ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے سبسڈی کی ترسیل یقینی بنا رہے ہیں، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔
شزا فاطمہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی کام کر رہی ہے اور عملدرآمد کمیٹی دن میں تین بار پیش رفت رپورٹ دے رہی ہے۔
وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ حکومت نے کفایت شعاری سے بچائے گئے وسائل عوامی ریلیف پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبوں نے بھی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر بھرپور تعاون کیا ہے۔


