ایرانی صدر کا کریک ڈاؤن پر معذرت، انقلابِ اسلامی کی سالگرہ پر خطاب
دبئی: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک گیر احتجاج اور اس کے بعد ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن سے متاثرہ افراد سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کے دکھ سے آگاہ ہے اور متاثرین کی مدد کی پابند ہے۔
انقلابِ اسلامی 1979 کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہم عوام کے سامنے شرمندہ ہیں اور ان واقعات میں متاثر ہونے والوں کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم عوام سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔” تاہم انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے کردار کا براہِ راست اعتراف نہیں کیا اور احتجاج سے متعلق “مغربی پروپیگنڈے” کی بھی مذمت کی۔
صدر پزشکیان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں اور کسی بھی قسم کی تصدیق کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، تاہم معاہدے کے امکانات غیر واضح ہیں۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کو کئی ماہ سے ایران کے جوہری ذخائر کی جانچ کی مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔


