spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
27 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

سعودی تعاون سے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اقدام مسترد کریں گے: صومالی صدر

سعودی قیادت میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اقدام کالعدم کرائیں گے: صومالی صدر

ریاض: صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے ایک تین نکاتی سیاسی اور قانونی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد اسرائیل کی جانب سے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دینا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اخبار الشرق الاوسط کو دیے گئے انٹرویو میں صدر محمود نے کہا کہ ان کی حکومت سعودی عرب کی قیادت میں شراکت دار ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ خطۂ افریقہ میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی “غیر ذمہ دارانہ کشیدگی” سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ علاقائی ممالک اس پیش رفت کو صومالیہ کی وحدت اور علاقائی استحکام کی قیمت پر قلیل مدتی مفادات حاصل کرنے کا موقع سمجھ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

صدر محمود نے واضح کیا کہ صومالیہ کی وحدت ایک “سرخ لکیر” ہے اور موغادیشو اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پختہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور افریقی یونین کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

تین متوازی اقدامات

صدر کے مطابق صومالیہ اس معاملے پر تین متوازی اقدامات کر رہا ہے:

  1. سفارتی اقدام: اقوام متحدہ، افریقی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذریعے اس اقدام کو مسترد کر کے قانونی اور سیاسی طور پر غیر مؤثر بنانا۔ انہوں نے بتایا کہ صومالیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا باضابطہ اجلاس بلانے میں کامیابی حاصل کی، جسے انہوں نے سفارتی کامیابی قرار دیا۔

  2. متحدہ مؤقف کی تشکیل: عرب، اسلامی اور افریقی ممالک کے مشترکہ مؤقف کو مضبوط بنانا۔ انہوں نے سعودی عرب کو سراہتے ہوئے کہا کہ مملکت نے صومالیہ کی وحدت کی حمایت میں فوری اور واضح بیان جاری کیا، جو اس کے اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

  3. اندرونی قومی مکالمہ: ایک متحدہ صومالی ریاست کے فریم ورک میں داخلی سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا، تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے۔

علاقائی سلامتی پر اثرات

صدر محمود نے خبردار کیا کہ اگر اس اقدام کو نہ روکا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور خطے سمیت عالمی امن کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف افریقہ بلکہ عرب دنیا میں بھی علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

انہوں نے بحیرۂ احمر کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صومالیہ کے ساحل پر کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست عالمی تجارت کو متاثر کرے گی اور سعودی عرب، مصر، سوڈان، یمن اور اردن سمیت بحیرۂ احمر کے ساحلی ممالک کی سلامتی پر اثر انداز ہوگی۔

اسٹریٹجک خدشات

صدر نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد محض سیاسی تسلیم کرنا نہیں بلکہ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے قریب اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل کرنا ہو سکتا ہے، جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صومالیہ کو علاقائی یا بین الاقوامی تنازعات کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات

صدر حسن شیخ محمود نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو گہرے اور اسٹریٹجک قرار دیا اور کہا کہ مملکت صومالیہ کے استحکام، تعمیر نو اور ترقی میں مرکزی شراکت دار ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی جانب سے صومالیہ کی وحدت کے حق میں حالیہ بیان کو سراہتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں