spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

مسلمان طلباء کی قابلیت ان کا جرم بن گئی، بھارت نے کشمیر میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بند کر دیا

سری نگر: مسلمان طلباء کی قابلیت ان کا جرم بن گئی، بھارت نے کشمیر میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بند کر دیا۔

بھارت نے دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک معروف میڈیکل کالج کی منظوری منسوخ کر دی ہے، یہ اقدام میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کی بڑی تعداد میں داخلے کے خلاف دباؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دائیں بازو کے ہندو گروپس کا مسلمان طلبہ کے ایڈمشن پر احتجاج میڈیکل کالج کو بند کرنے کی وجہ بنا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) جو طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ امور کا وفاقی ریگولیٹری ادارہ ہے نے 6 جنوری کو شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایس ایم وی ڈی ایم آئی) کی منظوری واپس لے لی۔

یہ ادارہ ضلع ریاسی میں واقع ہے جو ہمالیہ کے پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے قریب واقع ہے، جو جموں کے میدانی علاقوں کو وادی کشمیر سے جدا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر میں ایم بی بی ایس کے پانچ سالہ پروگرام میں داخلہ لینے والے 50 طلبہ میں سے 42 مسلمان تھے، جن کی اکثریت کا تعلق کشمیر سے تھا جبکہ سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ مسلم طلبہ کی نمایاں اکثریت پر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد کالج کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

الجزیرہ کے مطابق ہندو انتہا پسند گروپس اور بی جے پی رہنماؤں نے مسلمان طلبہ کے داخلے کو نامناسب قرار دیا، احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ہندو عطیات سے چلنے والے ادارے میں مسلمانوں کو داخلہ نہیں ملنا چاہیے۔

نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کی منظوری انفراسٹرکچر کی کمی کا جواز بنا کر واپس لی، پہلے بیچ کے 50 میں سے زیادہ تر طلبہ مسلمان تھے جو میرٹ پر منتخب ہوئے، کالج کی بندش سے درجنوں طلبہ بغیر کسی متبادل میڈیکل کالج کے رہ گئے۔

واقعے نے بھارت میں تعلیم کے شعبے میں مذہب اور سیاست کے بڑھتے اثر و رسوخ پر سنگین سوالات اٹھا دیے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بھارت میں تعلیمی اداروں میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور دباؤ کی ایک اور مثال ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی اور مذہبی بنیادوں پر کیا گیا اقدام قرار دیا ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر بھارتی زیرانتظام کشمیر میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی اور سماجی مشکلات کو اجاگر کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں