spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
3 July, 2026
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی سب میرین کیبل (ایس ایم ڈبلیو 5) میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی دور کر دی گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق بحال ہوگئی ہے۔ Ad powered by advergic.com پی ٹی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک معمول پر آگئی ہے اور سروس بلا تعطل فراہم کی جا رہی ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ خرابی کے خاتمے کے بعد صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے مختلف شہروں سے انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی متعدد شکایات سامنے آئی تھیں۔ Ad powered by advergic.com انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق بھی مختلف علاقوں کے صارفین نے کنیکٹیویٹی کے مسائل رپورٹ کیے تھے جس کے باعث آن لائن سرگرمیاں اور ڈیجیٹل سروسز عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔ پی ٹی اے نے اس سے قبل اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ایس ایم ڈبلیو 5 بین الاقوامی سب میرین کیبل میں فنی خرابی کے باعث انٹرنیٹ سروس کے معیار پر عارضی اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

اعتزاز حسن کی عظیم قربانی کو 12 سال مکمل، 700 طلبہ کی جان بچانے والا کم سن ہیرو

آج سے بارہ سال قبل اسی دن، جماعت نہم کے طالب علم اعتزاز حسن نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک کم عمر خودکش بمبار کو اپنے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا، جہاں طلبہ صبح کی اسمبلی کے لیے جمع تھے۔

اس روز وہ اسکول دیر سے پہنچا تھا اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ اسکول کے باہر کھڑا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کا دیر سے پہنچنا اندر موجود سرکاری ہائی اسکول کے تقریباً 700 معصوم بچوں کی جانیں بچا لے گا۔

اس کے ہم جماعتوں کے مطابق خودکش بمبار نے اسکول کے گیٹ کے قریب بتایا کہ وہ داخلہ لینے آیا ہے۔

ساتھی طلبہ نے جب اس کی جیکٹ پر بندھا ڈیٹونیٹر دیکھا تو وہ فوراً اسکول کے اندر بھاگ گئے، مگر اعتزاز حسن وہیں ڈٹا رہا اور اسے روکنے کا فیصلہ کیا۔

دہشت گرد نے کسی قسم کی رحم دلی کا مظاہرہ نہ کیا اور شاید یہ سمجھا کہ یہ عمل اسے جنت میں لے جائے گا، چنانچہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس میں اعتزاز حسن بھی شہید ہو گیا۔ وہ ایک خودکش بمبار تھا۔

اعتزاز حسن چاہتا تو بھاگ سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ پُرعزم، بہادر اور اپنے فرض کا شعور رکھنے والا طالب علم تھا، جو اپنے اسکول اور ساتھی طلبہ کی جانیں بچانے کے لیے کھڑا رہا۔

اس دن اس 15 سالہ باہمت اور روشن مستقبل کے حامل طالب علم کی قربانی نے، جیسا کہ اس کے والد نے بعد میں کہا، “اپنی ماں کو رُلایا، مگر سینکڑوں ماؤں کو اپنے بچوں کے غم سے بچا لیا۔”

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں