آج سے بارہ سال قبل اسی دن، جماعت نہم کے طالب علم اعتزاز حسن نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک کم عمر خودکش بمبار کو اپنے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا، جہاں طلبہ صبح کی اسمبلی کے لیے جمع تھے۔
اس روز وہ اسکول دیر سے پہنچا تھا اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ اسکول کے باہر کھڑا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کا دیر سے پہنچنا اندر موجود سرکاری ہائی اسکول کے تقریباً 700 معصوم بچوں کی جانیں بچا لے گا۔
اس کے ہم جماعتوں کے مطابق خودکش بمبار نے اسکول کے گیٹ کے قریب بتایا کہ وہ داخلہ لینے آیا ہے۔
ساتھی طلبہ نے جب اس کی جیکٹ پر بندھا ڈیٹونیٹر دیکھا تو وہ فوراً اسکول کے اندر بھاگ گئے، مگر اعتزاز حسن وہیں ڈٹا رہا اور اسے روکنے کا فیصلہ کیا۔
دہشت گرد نے کسی قسم کی رحم دلی کا مظاہرہ نہ کیا اور شاید یہ سمجھا کہ یہ عمل اسے جنت میں لے جائے گا، چنانچہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس میں اعتزاز حسن بھی شہید ہو گیا۔ وہ ایک خودکش بمبار تھا۔
اعتزاز حسن چاہتا تو بھاگ سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ پُرعزم، بہادر اور اپنے فرض کا شعور رکھنے والا طالب علم تھا، جو اپنے اسکول اور ساتھی طلبہ کی جانیں بچانے کے لیے کھڑا رہا۔
اس دن اس 15 سالہ باہمت اور روشن مستقبل کے حامل طالب علم کی قربانی نے، جیسا کہ اس کے والد نے بعد میں کہا، “اپنی ماں کو رُلایا، مگر سینکڑوں ماؤں کو اپنے بچوں کے غم سے بچا لیا۔”


