spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
23 April, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور انسٹیٹیوٹ آف میڈیسنل پلانٹ ڈیویلپمنٹ (IMPLAD) نے قیمتی جڑی بوٹیوں کے وسائل کی سائنسی تحقیق اور تحفظ کے لیے تاریخی معاہدہ پر دستخط کر لیا۔

گلگت : قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اورچین کی چائنیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز سے منسلک انسٹیٹیوٹ آف میڈیسنل پلانٹ ڈیویلپمنٹ (IMPLAD) نے قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کی سلسلوں میں موجود قیمتی جڑی بوٹیوں کے وسائل کی سائنسی تحقیق اور تحفظ کے لیے ایک اہم دستاویزِ تفہیم (Document of Understanding) پر دستخط کر لیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے آئی یو کے مطابق معاہدے پر وائس چانسلر کے آئی یو انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ اور IMPLAD کے پروفیسر ڈاکٹر چانگ لیو نے کیا۔معاہدے کے تحت یہ شراکت داری 2030کے آخر تک جاری رہے گی اور اس کا بنیادی مقصد ہمالیائی جڑی بوٹیوں کی جدید دواسازی میں معیاری استعمال اور بایوڈائیورسٹی کا تحفظ ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے روایتی جڑی بوٹیوں کے مواد اور مقامی علاج کے علم کی مشترکہ تحقیق اور تجزیہ،کے آئی یو مین کیمپس میں جدید بایوڈائیورسٹی کنزرویشن سینٹر، سیڈ بینک اور جینوم بینک کا قیام،طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگرامز کے ذریعے ٹیکسونومی، جینومکس اور فائٹو کیمسٹری میں صلاحیت بڑھاناپر کام کریں گے۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے وائس چانسلرکے آئی یو پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہا کہ اس معاہدہ سے نہ صرف قراقرم یونیورسٹی کو عالمی سائنسی نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہواہے بلکہ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کے آبائی علاج کے ورثے کو محفوظ اور مستفید بنانے کا ضامن بھی ہے۔یہ منصوبہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے سائنسی و ثقافتی تعاون کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک میں بایوڈائیورسٹی کے تحفظ کی فوری ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔ان سے قبلپروفیسر ڈاکٹر چانگ لیو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلے دنیا کے قیمتی ترین جڑی بوٹیوں کے خزانے ہیں۔ یہ شراکت داری چین کی جدید سائنسی صلاحیتوں کو پاکستان کی غیر معمولی بایوڈائیورسٹی اور روایتی علم سے ملا کر جڑی بوٹیوں کی دوا کے نئے امکانات کھولے گی۔انہوں نے کہاکہ دونوں اداروں کے سائنسدان 2026ء میں مشترکہ فیلڈ مہمات شروع کرنے جا رہے ہیں جبکہ جامعہ قراقرم میں نئے تحفظاتی مراکز کی بنیاد اگلے سال رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ جامعہ قراقرم اور IMPLADکی شراکت داری چین اور پاکستان کو ہمالیائی جڑی بوٹیوں کی سائنسی معیاری میں عالمی قیادت دینے کی پوزیشن میں لا کھڑا کرے گی۔ جس سے نئی دواسازی کے دریافت کے ساتھ ساتھ ناقابلِ تلافی ماحولیاتی اور ثقافتی خزانوں کا مستقبل محفوظ ہو گا۔واضح رہے کہ اس معاہدے کے تحت کام کرنے کے لیے جامعہ قراقرم سے شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کے ڈاکٹر سجاد حیدر بطور فوکل پرسن کام کریں گے جبکہ باقی ٹیم میں پروفیسر ڈاکٹر شیر ولی،ڈاکٹر سعید عباس،شعبہ کیمسٹری کے ہیڈ ڈاکٹر افتخار علی،انٹرنیشنل آفس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد حیدر شامل ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں