بروشسکی، جو دنیا کی منفرد اور غیر معروف لسانی خاندانوں میں شمار ہوتی ہے، بنیادی طور پر تین بڑے لہجوں میں منقسم ہے: ہنزہ، نگر اور یاسین (جسے ورچکوار بھی کہا جاتا ہے)۔ ان لہجوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہنزہ اور نگر ایک دوسرے کے قریب ترین ہیں اور ان کی لغوی ہم آہنگی نوے فیصد سے زائد ہے، جبکہ یاسین کا لہجہ جغرافیائی دوری اور قدرتی رکاوٹوں کے باعث زیادہ مختلف ہے اور اس کی مماثلت ہنزہ اور نگر سے ستر فیصد کے قریب ہے۔ تاہم ان تمام تفاوتوں کے باوجود تینوں لہجے باہمی طور پر قابل فہم ہیں، یعنی ایک علاقے کا بولنے والا دوسرے کے بولنے والے کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
اس مشترکہ بنیاد کے باوجود، گزشتہ چند صدیوں میں سیاسی اور ثقافتی اثرات نے ان لہجوں کی راہیں الگ کی ہیں۔ یاسین کی بروشسکی گزشتہ چار سو سالوں سے کھوار حکمرانوں کے زیر اثر رہی، جس نے اسے درباری الفاظ، رشتہ داری کی اصطلاحات اور متعدد دیگر مستعار الفاظ فراہم کئے۔ دوسری جانب ہنزہ اور نگر کی بروشسکی نے شینا، سنسکرت اور بلتی کے اثرات قبول کئے، جن کا بیشتر حصہ روزمرہ کی لغت میں شامل ہو گیا۔ مگر زبان کا حقیقی کمال اس کے ان اجنبی الفاظ کو اپنانے کے انداز میں پنہاں ہے، اور یہیں سے دونوں علاقوں کی بروشسکی میں بنیادی فرق ابھرتا ہے۔
بروشسکی کا اصل اور فطری نظام یہ ہے کہ اس میں انسانی رشتوں، جسم کے اعضاء اور انسانی کیفیتوں (جیسے نیند، بھوک وغیرہ) سے جڑے الفاظ اپنے سابقے جنس اور عدد کے لحاظ سے بدل لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر “ہاتھ” کے لیے بنیادی لفظ “رین” تو ہے، لیکن جب اسے کسی کی ملکیت میں لایا جائے تو “میرا ہاتھ” (اَرِیں)، “اس مرد کا ہاتھ” (اِرِیں)، “اس عورت کا ہاتھ” (مُرِیں)، “ہمارا ہاتھ” (مِرِیں)، اور “ان کا ہاتھ” (اُرِیں) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ نظام بروشسکی کی جان ہے۔ مگر جب یاسین میں کھوار سے “پیشانی” کے لیے “کپل” کا لفظ آیا، تو اس نے اس قاعدے کو بالکل نظر انداز کر دیا، جبکہ بروشسکی کا اپنا لفظ “اپھٹی” یا “گپھٹی” بڑی خوبصورتی سے ان سابقوں کو اپناتا ہے۔ یہی المیہ “باپ” کے لفظ کے ساتھ بھی پیش آیا، جہاں کھوار کا “تتی” بروشسکی کے قدیم “اوو” کو پیچھے چھوڑ گیا اور اس نئے لفظ نے بھی جنس اور عدد کا کوئی خیال نہ کیا۔ اس طرح یاسین میں مستعار الفاظ نے بروشسکی کے قدیم صرفی نظام (تصریف) کو ایک طرف دھکیل دیا۔
مگر گرامر کو پہنچنے والا نقصان صرف انفرادی الفاط تک محدود نہیں رہا، بلکہ ضمیروں اور صرفی لاحقوں کی سطح پر بھی ایک خطرناک دو طرفہ بگاڑ رونما ہوا ہے۔ غور فرمائیں: یاسین کی بروشسکی میں “وہ چیز” کے لیے لفظ “سے غہ” (se ġa) استعمال ہوتا ہے، جس میں تیسرے شخص واحد کا مخصوص سابقہ “اے” (e) موجود ہے۔ یہ سابقہ اس زبان کی ایک پہچان ہے جو فعل اور اسم دونوں کے ساتھ تیسرے شخص کی نشاندہی کرتا ہے۔ مگر جب یہی لفظ ہنزہ پہنچا تو سنسکرت کے اثر میں اس نے نہ صرف اپنی اصلی شکل بدلی بلکہ اس پر سنسکرت کا لاحقہ “ار” (ar) چسپاں کر کے “ایس ار” (es ar) بنا دیا گیا۔ اس عمل میں تیسرے شخص واحد کا وہ قیمتی سابقہ “اے” جسے ہنزہ نگر نے محفوظ رکھا تھا، یاسین کافی حدتک ڈراپ ہو گیا۔ یوں ایک طرف تو سنسکرت کے اجنبی لاحقے نے حملہ کیا، اور دوسری طرف بروشسکی کا اپنا اہم صرفی نشان ضائع ہو گیا، اس طرح اس دو طرفہ بگاڑ نے گرامر کی ریڑھ کی ہڈی کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ اب ضمیروں اور فعلوں کا آپس میں ربط کمزور پڑ گیا ہے۔
اسی طرح ہنزہ اور نگر میں جانوروں اور انسانوں کے لیے الگ الگ درجہ بندی کا خاتمہ بھی گرامر کی سطح پر ایک بڑی تبدیلی ہے۔ بروشسکی کی روایتی عالیشان لسانیات میں انسان اور جانور کے لیے علیحدہ احترامی اصول تھے، چنانچہ پرندوں، کتوں، بلیوں اور درندوں کے مونث کے لیے واضح لفظ “بیࣷہےࣷ” (behe) اور مذکر کے لیے “وُل” (wal) موجود تھے۔ مگر ہنزہ نگر میں انہیں چھوڑ کر انسانی زمرے میں شامل کر لیا گیا، جیسے “ہر ہک” (مرد کتا) اور “گس ہک” (مادہ کتا) جیسے مرکبات استعمال ہونے لگے۔ اس تبدیلی نے بروشسکی کے احترام کے قدیم اصول کو شدید نقصان پہنچایا اور گرامر کی جنس بندی کے نظام میں مصنوعی مداخلت کی۔
صوتی سطح پر بھی یاسین اور ہنزہ-نگر میں واضح تفریق نظر آتی ہے۔ بروشسکی میں ایک عالمگیر لسانی رجحان یہ ہے کہ جب کوئی زبان جدیدیت کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے حروفِ علت (واولز) پست اور درمیانی سطح سے بلند سطح کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔ اس کی عمدہ مثال یاسین کا لفظ “څھیں” (c̣hen) ہے جس کا مطلب چڑیا ہے، جو ہنزہ اور نگر پہنچ کر “څھِن” (c̣hin) بن گیا ہے، یعنی درمیانی ‘ای’ کی آواز بلند ‘اِ’ میں تبدیل ہو گئی ہے، اور یہ تبدیلی درجنوں الفاظ میں مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح شوہر کے لیے بروشسکی کا اہم لفظ “مُیُو ہر” ہے، جسے دوسری زبانوں نے بھی اپنایا، مگر ہنزہ-نگر کے لہجے میں اس کے آخر کا ‘ہ’ گر گیا ہے اور اس کی جگہ ایک لہجہ (ٹون) نے لے لی ہے، جس سے یہ “مُیُوَر” کے قریب ہو گیا ہے۔
مزید پیچیدگی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے الفاظ دونوں علاقوں میں موجود تو ہیں مگر ان کے معانی مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ مثال کے طور پر یاسین میں “بِچ” کا استعمال پھیکے (بے نمک یا بے ذائقہ) کے لیے ہوتا ہے، جبکہ ہنزہ میں یہی لفظ “ٹھنڈا” کے لیے بولا جاتا ہے، اور پھیکے کے لیے ہنزہ والے “تُورغوٹ” کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے لفظی معانی میں مبادلہ (Semantic Shift) لسانیات کا ایک دلچسپ باب ہے اور اس کی مثالیں بروشسکی میں بکثرت ملتی ہیں۔
ان تمام تغیرات کے باوجود اگر ہم مستعار الفاظ کو ایک طرف رکھ کر بروشسکی کی اصل اور قدیم جڑوں کو دیکھیں تو تینوں لہجے آپس میں یکساں ہی محسوس ہوتے ہیں، تاہم جن راستوں پر یہ تبدیلیاں آئیں ہیں، خاص طور پر ضمیروں کے صرفی لاحقوں کا خاتمہ، جنس کے نظام میں مصنوعی مداخلت، اور حروفِ علت کا ارتقا ۔ان سب کو حل کرنے کے لیے ہنزہ، نگر اور یاسین کے عمائدین، ادبا اور لسانیات کے ماہرین کو بروشو مرکہ کے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر ان تغیرات کی باقاعدہ دستاویز سازی کرنی چاہیے۔ اس مفاہمتی نشست کے بغیر بروشسکی کے مختلف لہجے رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے مزید دور ہوتے جائیں گے اور یہ دو طرفہ بگاڑ ناقابلِ مرمت ہو جائے گا۔ زبان کا تحفظ صرف اسے بولنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اصولوں، اس کے احترام اور اس کی قدیم آواز کو بچانے کا نام ہے، اور اس کے لیے وقت کی قربانی اور عملی قبولیت دونوں ناگزیر ہیں۔


