spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

سال 2025: گلگت بلتستان میں پاک فوج کے فلاحی اقدامات

ہمیشہ کی طرح سال 2025 میں بھی پاک فوج نے گلگت بلتستانں میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ نبھانے کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ مشکل جغرافیہ، شدید موسمی حالات، برفانی راستوں اور محدود سہولیات کے باوجود پاک فوج نے عوامی خدمت کے مختلف شعبوں میں عملی اقدامات کے ذریعے عوام کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کیا، جس سے ادارے اور عوام کے درمیان اعتماد، احترام اور تعاون کا رشتہ مزید مضبوط ہوا۔

یہ خدمات ریسکیو آپریشنز سے شروع ہوئیں، جن میں منی مرگ جیسے دور دراز اور برف پوش علاقوں سے شدید بیمار مریضوں کی بروقت منتقلی، بابو سر اور غذر کے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے مسافروں کا محفوظ انخلا اور گلگت میں پیش آنے والے پہاڑی حادثے کے بعد قوم پرست رہنما یاور عباس کی میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرنا شامل تھا۔ ان تمام کارروائیوں میں پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے جانوں کی پروا کیے بغیر فرض شناسی، پیشہ ورانہ مہارت اور عوام دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

ریسکیو کے بعد ریلیف سرگرمیوں کے تحت دور دراز، پسماندہ اور متاثرہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے جہاں شہریوں کو مفت علاج اور ادویات، مشورے فراہم کی گئیں، جبکہ مستحق خاندانوں میں راشن، خیمے اور دیگر ضروری اشیاء کی تقسیم کے ذریعے ان کی فوری مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان اقدامات نے متاثرہ آبادی کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی مزید مستحکم کیا۔

تعلیمی میدان میں بھی پاک فوج نے گلگت بلتستان کے پسماندہ علاقوں میں اسکولوں کی تعمیر، تعلیمی سہولیات کی بہتری اور نئے ا ارمی پبلک سکولز کے قیام کے ذریعے اہم خدمات انجام دیں، جن میں اشوک پبلک اسکول سکسہ، گلگت میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی اسکول کا قیام اور غذر، یاسین اور دیگر علاقوں میں نئے آرمی پبلک اسکولز کا آغاز شامل ہے، جس سے ہزاروں بچوں کو معیاری، محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول میسر آیا اور والدین کا تعلیمی نظام پر اعتماد بڑھا۔

اسی طرح آئی ایس پی آر کے پلیٹ فارم سے گلگت اور سکردو میں طلبہ کے لیے انٹرن شپس، اساتذہ اور اکیڈمیا کے لیے ہلال ٹاکس، قومی سلامتی ورکشاپس اور اسٹڈی کیمپس کا انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے نوجوانوں کو قومی و بین الاقوامی امور، حالات حاضرہ، دفاعی پالیسیوں اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین سے براہ راست سیکھنے، تبادلہ خیال اور رہنمائی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایس سی او نے مختلف علاقوں میں آئی ٹی اور فری لانسنگ ہبز کے قیام کا انقلابی آغاز کرتے ہوئے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی، انہیں جدید معیشت، آن لائن روزگار اور عالمی مارکیٹس سے جوڑا اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے، جس سے خود انحصاری، معاشی خود کفالت، غربت میں کمی اور سماجی ترقی کو فروغ ملا۔

نوجوانوں کی مثبت توانائی کو درست سمت دینے کے لیے پولو اور فٹبال ٹورنامنٹس، شوٹنگ مقابلے اور دور دراز علاقوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے صحت مند مقابلے، ٹیم ورک، نظم و ضبط، برداشت، قیادت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں مدد ملی اور نوجوان نسل کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کیا گیا۔

تاریخ، ثقافت اور روایات کے تحفظ کے لیے قومی دنوں کے ساتھ ساتھ یکم نومبر کی جشنِ آزادی گلگت بلتستان پریڈ، مختلف ثقافتی تقریبات، دیوسائی، رٹو سنو اور نسالو فیسٹیول منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے مقامی فن، دستکاری، روایات اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا گیا اور علاقائی شناخت کو نئی قوت، وقار اور اعتماد حاصل ہوا۔

سیاحت اور ایڈونچر ٹورزم کے فروغ کے لیے پاک فوج نے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا،کوہ پیماؤں کو ہنگامی ایویکویشن کی سہولت فراہم کی، سکردو میں انٹرنیشنل ماؤنٹینئرنگ کانفرنس کا انعقاد کیا اور مقامی کوہ پیماؤں کی حوصلہ افزائی اور اسپانسرشپس کے ذریعے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، جس سے گلگت بلتستان میں محفوظ اور ذمہ دار سیاحت کو فروغ ملا۔

امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گرینڈ جرگے، یوتھ انگیجمنٹ سیشنز، کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرامز اور خصوصی بچوں کے مراکز کی معاونت کی گئی تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے، برداشت، اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے اور ایک پرامن، مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔

اسی طرح گلگت بلتستان کی معیشت میں بھی پاک فوج کا کردار نمایاں رہا۔ ایف ڈبلیو او نے این ایل سی کے ساتھ مل کر سوست ڈرائی پورٹ کو پورا سال کھلا رکھا جبکہ پاک فوج کی ایجنسیوں نے اسمگلنگ کی روک تھام کی جس سے قانونی طریقے سے مقامی لوگوں کی تجارت میں اضافہ اور قومی خزانے کو تقریباً 22 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔ اسی طرح ایف ڈبلیو او نے کے کے ایچ اور جگلوٹ سکردو روڈ کی مسلسل مینٹیننس کے ذریعے سال بھر آمدورفت کو ممکن بنایا، جس سے علاقائی رابطہ اور معیشت مزید مستحکم ہوئی۔

یوں سال 2025 میں پاک فوج نے گلگت بلتستان میں جان بچانے سے لے کر زندگی سنوارنے تک، صحت، تعلیم، روزگار، کھیل، تاریخ اور ثقافت ہر شعبے میں عوامی خدمت کا عملی ثبوت دیا، جس پر یہاں کی عوام پاک فوج کی تہہ دل سے شکر گزار ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ خدمات آئندہ بھی اسی جذبے، اخلاص اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی، ان شاء اللہ۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں