spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
25 February, 2026

کالم / تجزیہ

spot_img

مقبول خبریں

spot_img

گلگت بلتستان کاروشن مستقبل: امن ،اتحاد اور رواداری سے وابستہ

گلگت بلتستان کاروشن مستقبل: امن ،اتحاد اور رواداری سے وابستہ

گلگت بلتستان کی تاریخ میں 1988ء، 2005ء اور 2012ء جیسے چھوٹے بڑے فرقہ وارانہ فسادات نے اس خطے کے اجتماعی دل و دماغ پر ایسے گہرے زخم دیے ہیں جن کے نشانات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ واقعات محض اعدادوشمار نہیں ہیں بلکہ ہمارے ہمسایہ، دوست اور عزیز و اقارب کھونے کے المناک سانحات تھے۔

ان واقعات کے بعد جو منظر نامہ سامنے آیا، وہ انتہائی عبرت ناک تھا۔ تعلیمی ادارے مہینوں بند رہے، جس سے ہزاروں طلباء و طالبات کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ ترقیاتی کاموں میں التوا نے گلگت بلتستان کو کئ سال پیچھے دھکیل دیا۔ ہمسائے ، دوست عزیز و اقارب بچھڑ گئے، ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے، نفسیاتی صدمات نے پورے خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

معاشی طور پر خطہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ سیاحت، جو خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بالکل صفر ہو گئی۔ ہوٹل، ریسٹورنٹ، ٹرانسپورٹ اور ہنر کی مارکیٹیں ویران ہو گئیں۔ مزدور، گائیڈ، دستکار اور چھوٹے تاجر بے روزگار ہو گئے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں سرمایہ کاری کا تصور محال ہو گیا۔ بدترین بات یہ ہوئی کہ ترقی کے تمام منصوبے، جن پر کروڑوں روپے خرچ ہونے تھے، معطل ہو گئے۔ یہ تاریخی سبق ہے کہ نفرت اور تشدد کی آگ سب سے پہلے اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح چند سالوں کی بدامنی نے دہائیوں کی ترقی پر پانی پھیر دیا۔

آج گلگت بلتستان ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خطے کی تعمیر و ترقی میں بے مثال وسائل اور توجہ صرف کر رہی ہیں لیکن امن دشمنوں نے ایک بار پھر ان تمام منصوبوں کو روکنے کے لیے فرقہ وارانہ تفرقے کو ہوا دینے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ حالیہ واقعات انہی سازشوں کی کڑی ہے ۔

امن دشمنوں کو معلوم ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کا اہم ترین حصہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہے۔ خنجراب پاس اور سوست ڈرائی پورٹ اس کی رگوں میں دوڑتا خون ہیں۔ صرف گزشتہ سال کے آغاز سے ہی اس راہداری نے 20 ارب سے زائد کی تجارت کو آسان بنایا ہے، جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ اگر امن قائم نہ رہا، تو یہ معاشی شاہراہ بے معنی ہو جائے گی، اور خطہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی معاشی خودمختاری کی علامت ہے، جو نہ صرف ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی فراہم کرے گا بلکہ آبپاشی اور سیلابی تحفظ بھی دے گا۔ اس کی تعمیر سے ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار مل رہا ہے لیکن بدامنی کی صورت میں نہ صرف یہ منصوبہ رک جائے گا بلکہ اس سے وابستہ تمام خاندانوں کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

گلگت بلتستان بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے، یہاں موسم سرما میں طلب اور رسد کے درمیان 360 میگاواٹ کا بہت بڑا فرق ہے۔ نلتر-III، عطا آباد، شگر تھنگ، گواری جیسے اہم ہائیڈرو پاور منصوبے اس بحران کو حل کرنے کے لیے زیر تعمیر ہیں۔ ان منصوبوں کی تاخیر یا تعطل کا مطلب ہے خطے کے لوگوں کو مزید برسوں تاریکی میں گزارنا۔

اسکے ساتھ تعلیم و صحت کے اعتبار سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور کیمپسز ، یونیورسٹی آف بلتستان، نئے دانش اسکولز، جدید ترین کینسر اور دل کا ہسپتال خطے کے روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔ بدامنی کی صورت میں یہ ادارے بند ہو جائینگے ہیں، جس سے نہ صرف طلبہ کا مستقبل خطرے میں جائے گا بلکہ صحت کا شعبہ بھی بہت متاثر ہوگا۔

گلگت بلتستان قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑ (کے ٹو، نانگا پربت)، حسین وادیاں ،صاف جھیلیں اور منفرد ثقافت اسے سیاحوں کے لیے جنت بناتے ہیں۔ سیاحت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہاں ہزاروں خاندانوں کی روزگار کی بنیاد ہے۔ ٹورسٹ گائیڈ، ہوٹل مینجمنٹ، ٹرانسپورٹرز، دستکار، ریسٹورنٹ ورکرز، اور چھوٹے دکاندار سب کا روزگار اسی صنعت سے وابستہ ہے۔حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً دو لاکھ بین الاقوامی اور دس لاکھ مقامی سیاح سالانہ یہاں آتے ہیں۔ حکومت کا ویژن 2025ء ہے کہ سالانہ 12 لاکھ سیاح آئیں، ایک ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا جائے، اور دس ہزار نئے روزگار پیدا ہوں۔ لیکن یہ سب خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک خطے کا ماحول پرامن نہیں ہوتا۔ بدامنی کی ایک چھوٹی سی خبر بھی عالمی میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے، جس کا نتیجہ ہوٹل کی منسوخی، گائیڈز کی بے روزگاری اور معیشت کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ امن ہوگا تو سیاح آئیں گے، پیسہ آئے گا، روزگار پیدا ہوں گے اور خطہ ترقی کرے گا۔

پائیدار امن کوئی حکومتی حکم نامہ نہیں جو نافذ ہو جائے۔ یہ معاشرے کے ہر فرد، ہر طبقے اور ہر ادارے کی اجتماعی کاوشوں کا ثمر ہے۔اس میں سب سے بڑا کردار علماء کرام کا ہے۔ یہ علماء کرام کا فرض اولین یہ ہے کہ وہ اسلام کے حقیقی پیغام امن، رواداری اور اخوت کو عوام تک پہنچائیں۔ انہیں منبر و محراب کو محبت کا پیغام دینے کا مرکز بنانا چاہیے۔ اختلافات کو بنیاد بنا کر نفرت پھیلانے کے بجائے، مشترکہ نقاط پر روشنی ڈالنی چاہیے۔ انہیں نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ دین کا مقصد انسانوں کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کے خالق، کائنات اور بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق کو منظم کرتا ہے۔ یہ محض چند عبادات تک محدود مذہب نہیں بلکہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جس کی بنیاد ہی امن، عدل، رحمت اور باہمی اخوت پر رکھی گئی ہے۔ گلگت بلتستان جیسے متنوع الثقافت اور کثیر المذاہب خطے کے لیے اسلام کی یہی روشن تعلیمات مشعل راہ ہیں۔

سورۃ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
“اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔” (سورۃ آلِ عمران: 103)

یہ آیت اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ امت کی طاقت اتحاد، اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے، جبکہ تفرقہ کمزوری اور زوال کا سبب بنتا ہے۔

نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پوری زندگی صلح، مصالحت اور معاہدے کی روشن مثال ہے۔ “میثاق مدینہ” تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور ہے جس میں مختلف مذاہب اور قبائل کے درمیان باہمی حقوق و فرائض، تحفظ اور یکجہتی کی بنیاد رکھی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری)۔ “وہ مسلمان ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” یہ حدیث صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک عالمگیر امن کے اصول کی تعلیم دیتی ہے۔ اسکے ساتھ نوجوانوں اور طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر مثبت کردار ادا کریں، نفرت کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے پیغامات کو فروغ دیں اور یہ سمجھیں کہ ان کا مستقبل خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے۔اسی طرح سول سوسائٹی، میڈیا اور دانشوروں کو مثبت بیانیہ اجاگر کرنا چاہیے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز پر لازم ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنائیں، ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ کریں اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع پیدا کریں کیونکہ امن ہم سب کی ضرورت ہے، اس لیے ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے، گفتار اور عمل سے امن کو فروغ دے اور کسی بھی نفرت انگیز افواہ یا بیان کا حصہ نہ بنے۔

گلگت بلتستان کا مستقبل روشن ہے، بشرطیکہ ہم اجتماعی عزم کے ساتھ امن کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اگر ہم نے اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کا راستہ اختیار کیا تو ترقی، خوشحالی اور استحکام ہمارا مقدر بنے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں