بیداری شب کی یہی آگہی تو ہے کہ انسان پر افکار کا نزول ہوتا ہو، خیال کے در وا ہوتے جائیں اور معمولی سی سوچ بھی گہرے سوال میں ڈھل جائے۔
کچھ اسی کیفیت میں دعا کے یہ الفاظ زبان پر تھے
“رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً”
تو دل نے سوال کیا کہ اس جامع، حسین اور ہمہ گیر دعا کا نظم اجتماعی پر اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ فرد کے لیے تو مفہوم واضح ہے، مگر ایک معاشرے، ایک قوم اور ایک ریاست کے لیے اس کا دائرہ کہاں تک پھیل سکتا ہے؟
دفعتاً خیال آیا کہ مغربی دنیا، بالخصوص آج کی ڈیولپڈ کنٹریز نے جو مادی ترقی حاصل کی ہے، “ترقی، آسائشات، آرائشات، جدید ٹیکنالوجی اور اس کے ثمرات،” یہ سب بجا طور پر “فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً” کے مفہوم میں آتے ہیں۔ بہتر تعلیم، مضبوط معیشت، سائنسی پیش رفت، قانون کی بالادستی اور انسانی سہولتیں، کیا یہ یہ سب دنیا کی حسنات نہیں ہیں۔؟
اور اگر اسی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کو راسخ رکھا جائے، رسول اللہ ﷺ سے محبت کو حرز جاں بنایا جائے، اخلاق، دیانت اور جواب دہی کو زندگی کا اصول مان لیا جائے، تو “وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً” کا حصول بھی محض ایک امید نہیں بلکہ سو فیصد یقینی کامیابی بن جاتا ہے۔
اگر نظم اجتماعی کے لیے ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ و فی الاخرۃ حسنہ و قِنا عذاب النار کی یہی تشریح درست ہے، تو پھر جدید معاشی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا حصول کوئی ثانوی یا مشتبہ عمل نہیں رہتا، بلکہ نیت کی درستگی کے ساتھ عین عبادت بن جاتا ہے۔ اور جب یہ طاقت، یہ علم اور یہ ٹیکنالوجی درست استعمال میں آئے، تو “قِنا عذاب النار” یعنی دنیا و آخرت میں ناکامی ،تباہی، ظلم اور اجتماعی بربادی سے بچاؤ بھی اسی کے بطن میں پوشیدہ ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہتا کہ مغرب کی ترقی لی جائے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا فرد کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس امتزاج کی طرف نہیں بڑھنا چاہیے؟
یعنی مغرب کی معاشی و سائنسی ترقی کو اختیار کرتے ہوئے، اسلام کے راسخ عقائد پر مضبوطی سے قائم رہ کر، کیا دونوں جہانوں کو سنوارنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟
شاید یہی وہ توازن ہے جس کی ہمیں تلاش ہے، دنیا بھی سنور جائے، آخرت بھی، اور دعا محض زبان پر نہیں بلکہ اجتماعی زندگی میں مجسم ہو جائے۔


